
نوجوان اور کسان مرکزی حکومت کے خلاف متحد ہوں۔ کانگریس
جموں، 30 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرا نے نوجوانوں اور کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف متحد ہوں، جسے انہوں نے امیر نواز اور عوام مخالف قرار دیا۔ کٹھوعہ ضلع کے نگری علاقے میں منعقدہ کسان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے طارق حمید قرا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو مشکلات سے دوچار کیا ہے اور بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکز جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور یقین دلایا کہ کانگریس اس کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ قرا نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ حکومت نے صرف بڑے کارپوریٹ مفادات کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کسانوں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ اپنے بیان میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قومی وقار پر سمجھوتہ کیا ہے۔
جے کے پی سی سی کے کارگزار صدر رمن بھلا نے بھی مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر کے باعث حکمرانی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوہری کنٹرول کے نظام اور ریاستی درجہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ سابق وزیر لال سنگھ نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے سابق ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر کے علاقائی شناخت اور مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل، روزگار اور زمین کا استحصال ہو رہا ہے اور کٹھوعہ، سانبہ اور جموں جیسے علاقوں میں جرائم اور منشیات کے بڑھتے مسائل نوجوانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔کانگریس رہنماؤں نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے سیاسی اور انتظامی مستقبل کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر