
علی گڑھ، 30 مارچ (ہ س)۔ چیف ڈیولپمنٹ فیسر یوگیندر کمار کی صدارت میں کلیکٹریٹ آڈیٹوریم میں ضلع صحت کمیٹی کی ماہانہ جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صحت کی مختلف اسکیموں اور پروگراموں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ کے دوران سی ایچ سی سطح پر ادارہ جاتی زچگی (انسٹی ٹیوشنل ڈیلیوری) میں کمی پائے جانے پر سی ڈی او نے متعلقہ ایم او آئی سی سے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔ انہوں نے واضح ہدایات دیں کہ اگر آشا کارکنان اس حوالے سے سنجیدگی نہیں دکھا رہیں تو ان کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔
سی ڈی او یوگیندر کمار نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے آشا کارکنان کی جوابدہی طے کرنے اور نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے پر زور دیا۔
اندھتا نِوارن پروگرام کے تحت موتیا بند آپریشن کی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم پائے جانے پر بھی انہوں نے ناراضگی ظاہر کی اور بہتری کی ہدایت دی۔ اسی طرح آبھہ آئی ڈی (ABHA ID) بنانے میں کمی پر متعلقہ افسر سے جواب طلب کیا گیا۔
اترولی کے 100 بستروں والے اسپتال اور سی ایچ سی میں او پی ڈی اور ادارہ جاتی زچگی میں کمی پر سی ایم ایس ڈاکٹر درگیش کمار کو کام کے طریقہ کار میں بہتری لانے کی ہدایت دی گئی۔ اترولی، جواں، ہردواگنج اور چندوس علاقوں میں ایکسرے سہولیات کی کمی پر بھی متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی گئی۔
ضلع خاتون اسپتال میں الٹراساؤنڈ سہولت کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ڈاکٹر کی دستیابی یقینی بنائے جانے کی اطلاع دی گئی۔ سی ڈی او نے آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچانے کی ہدایت دی۔
خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے تحت مرد و خواتین نس بندی کے اہداف کو پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہی اصل مقصد ہے اور تمام پروگراموں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جائیں۔
ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے ماہانہ جائزے میں بتایا گیا کہ اب تک 34,941 خون کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور ضلع میں کسی بھی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ