
این سی پی (ایس پی) کا مطالبہ، چاکنکر اور تٹکرے کو شریک ملزم بنایا جائے
ممبئی، 28 مارچ (ہ س)۔ اشوک کھرات معاملے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، اور اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ روپالی چاکنکر اور سنیل تٹکرے کو اس کیس میں شریک ملزم بنایا جائے۔ 28 مارچ کو سامنے آئے بیان میں این سی پی (ایس پی) کے ترجمان وکاس لوانڈے نے کہا کہ صرف استعفیٰ دینے سے معاملہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور روپالی چاکنکر کو باضابطہ طور پر شریک ملزم بنایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ روپالی چاکنکر نے ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اور این سی پی (اے پی) کی ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے قانونی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ لوانڈے نے مزید الزام لگایا کہ این سی پی (اے پی) کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے بھی اس معاملے میں شامل رہے ہیں اور وہ کھرات کے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی مانک راؤ کوکاٹے نے سِننر تعلقہ میں کھرات کی مخالفت کی تھی اور ان کے ساتھ کوکاٹے کی کوئی تصویر یا ویڈیو سامنے نہیں آئی، جس سے ان کے کردار پر سوال نہیں اٹھتا۔لوانڈے کے مطابق یہ بھی الزام ہے کہ کھرات نے سنیل تٹکرے کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ کوکاٹے کو وزارت نہ ملے، اس لیے تٹکرے کو اس بارے میں وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے