
حیدرآباد، 28 مارچ (ہ س)۔تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کے کویتا نے اپنی نئی سیاسی پارٹی کے قیام کا باضابطہ اعلان کردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 25 اپریل کو نئی پارٹی تشکیل دی جائے گی ۔ اسی دن پارٹی کے نام اور جھنڈے کی بھی نقاب کشائی کی جائے گی اور ایجنڈے کی بھی وضاحت کی جائے گی ۔ یہ اعلان انہوں نے آج کیا اور اپنے حامیوں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ میڑچل کے منیرآباد گاؤں میں منعقد ہونے والے کنونشن میں بڑی تعداد میں شرکت کریں ۔ کویتا نے کہا کہ میں نظام آباد کی بہوہوں اور نظام آباد کی مٹی بہت خاص ہے اور یہاں سے لیا گیا فیصلہ پورے ملک کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ایک مضبوط سیاسی متبادل کی ضرورت ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے 12 سال بعد بھی پانی ، فنڈز اور ملازمتوں کے معاملات میں مکمل انصاف نہیں ہوسکا اورعوام کو سونچنا چاہئے کہ وہ کس طرح کی حکمرانی کے تحت زندگی گذ ار رہے ہیں ۔ کویتا نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی نئی پارٹی میں خواتین اور نوجوانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ اورنئی نسل کی قیادت کو آگے لایا جائے گا۔ بی آر ایس سے الگ ہونے کے بعد ان کا یہ فیصلہ ریاستی سیاست میں بڑی سنسنی پیدا کررہا ہے۔ سیاسی حلقوں بالخصوص حکمران جماعت کانگریس اصل اپوزیشن بی آر ایس اور بی جے پی میں موضوع بحث بن چکا ہے ۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ تلنگانہ کے جذبات اور ثقافتی بنیادوں پر کویتا اپنی نئی پارٹی کے ذریعہ عوام تک کس حد تک پہونچ پاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق