ذیابیطس کے مریضوں میں جگر کی پوشیدہ بیماری پر اہم قومی تحقیق میں اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر کی شرکت
ذیابیطس کے مریضوں میں جگر کی پوشیدہ بیماری پر اہم قومی تحقیق میں اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر کی شرکت علی گڑھ، 28 مارچ (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید حید
ڈاکٹر سید حیدر مہندی


ذیابیطس کے مریضوں میں جگر کی پوشیدہ بیماری پر اہم قومی تحقیق میں اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر کی شرکت

علی گڑھ، 28 مارچ (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید حیدر مہدی حسینی نے ملک گیر سطح پر کی گئی ایک اہم تحقیق میں بطور شریک محقق حصہ لیا، جس سے ہندوستان میں ذیابیطس کے مریضوں کے درمیان جگر کی بیماری کے ایک بڑے مگر پوشیدہ بوجھ کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ تحقیق معروف جریدے ’دی لانسیٹ ریجنل ہیلتھ - ساؤتھ ایسٹ ایشیا“ میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق ہندوستان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے تقریباً ہر چار میں سے ایک مریض کو جگر کا فائبروسس لاحق ہے، جبکہ تقریباً ہر بیس میں سے ایک مریض ممکنہ طور پر سیروسس کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، اور اکثر اوقات اس کی کوئی علامات نہیں ظاہر ہوئیں۔

کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حقیقی سروسیز میں شمار ہونے والی ڈائی فائب- لیور اسٹڈی میں جنوری سے جولائی 2024 کے درمیان پورے ہندوستان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے نو ہزار سے زائد بالغ مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ اس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ذیابیطس کے علاج میں ایک اہم خلا موجود ہے، جہاں جگر کی صحت کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے اور بیماری کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی۔

اس تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر حسینی نے کہا کہ جگر کا فائبروسس ذیابیطس کے مریضوں میں عام ہونے کے ساتھ طبی لحاظ سے نہایت اہم ہے، مگر اس کی خاموش پیش رفت کے باعث اکثر اس کا پتہ نہیں چل پاتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیچیدگیوں کی بروقت شناخت اور روک تھام کے لیے ذیابیطس کے معمول کے علاج میں جگر کی نان انویزیو اسکریننگ کو شامل کرنا ضروری ہے۔

ویب لنک https://authors.elsevier.com/sd/article/S2772368226000387 پر موجود یہ تحقیق پروفیسر آشیش کمار، سینئر کنسلٹنٹ برائے گیسٹرواینٹرولوجی، سر گنگا رام اسپتال، نئی دہلی کی قیادت میں مکمل کی گئی اور اس میں ڈائبیٹیز انڈیاکے ڈائبیٹیز اینڈ لیور انٹریسٹ گروپ کے تحت ملک بھر کے ماہرین نے شرکت کی۔

تحقیق کے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جگر کا فائبروسس پتلے لوگوں اور ان افراد میں بھی ہو سکتا ہے جن میں فیٹی لیور کی واضح علامات موجود نہ ہوں، جس سے یہ ضرورت مزید واضح ہوجاتی ہے کہ معیاری ذیابیطس نگہداشت میں فائبرو اسکین جیسے تشخیصی آلات کو وسیع پیمانے پر شامل کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande