
۔ اچانک اور بے ترتیب فیصلوں نے ماضی میں بھی ملک کے عوام کو بے پناہ مصائب مبتلا کیا
وارانسی، 28 مارچ (ہ س)۔ کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ناصر حسین نے ہفتہ کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے نئے ہندوستان میں لوگوں کو ہر چیز کے لیے لمبی قطاریںلگانی پڑ رہی ہیں۔ آج ملک کے شہریوں کو پٹرول اور ڈیزل، گیس سلنڈر، کھاد، راشن اور پانی سے لے کر آدھار، سرکاری نوکریوں، ریلوے ٹکٹوں، بجلی کے بلوں اور ٹول ناکے تک ہر جگہ لمبی قطاروں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہ وزیر اعظم مودی کی ”لائن لگاو یوجنا“ ہے، جس میں عوام صرف پریشان ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
وارانسی دورے پر آئے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ پانڈے پور کے ایک ہوٹل میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی بی جے پی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی روپیہ مسلسل گر رہا ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ کمزور ہونے سے درآمدی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔ بی جے پی حکومت معاشی محاذ پر پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑ رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ہندوستان کو متاثر کیا ہے لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس تیاری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بار بار ایسے بیانات دیتی ہے جس سے ملک میں گھبراہٹ (پینک) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ کووڈ جیسی تیاریوں کے بارے میں غیر سنجیدہ بیانات دے کر حکومت نے ایک بار پھر عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ اچانک اور بے ترتیب فیصلوں سے ماضی میں ملک کے عوام کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہونے کے باوجود کاشی کے لوگ بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کاشی میں ترقی صرف اشتہارات میں نظر آتی ہے۔ زمینی حقیقت بالکل مختلف ہے۔ کانگریس پارٹی عوامی مسائل کے لیے مسلسل لڑ رہی ہے اور سڑکوں سے لے کر اسمبلی کے ایوان تک اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
بات چیت کے دوران ریاستی صدر اجے رائے نے عصری قومی مسائل، بڑھتی مہنگائی، خارجہ پالیسی، ایندھن کے بحران اور کاشی کے زمینی حقائق کو لے کر حکومت پر حملہ کیا۔ اس دوران پارٹی کے وارانسی ضلع صدر راجیشور پٹیل، میٹروپولیٹن صدر راگھویندر چوبے، گورو پانڈے، ڈاکٹر راجیش گپتا، ستنام سنگھ، منیش مرولیا، ارون سونی اور دیگر بھی موجود تھے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد