
نئی دہلی، 28 مارچ (ہ س)۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو بھارت منڈپم میں منعقدہ ’انڈیا انوویٹس 2026 دنیا کا سب سے بڑا ہیکاتھون‘ نامی بڑی تقریب میں شرکت کر کے پورے ملک سے آئے ہوئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نظامِ حکومت میں جدت (انوویشن) کو جگہ دے گی۔
اس پروگرام میں ہزاروں نوجوانوں، شرکاء اور نمائندوں نے حصہ لیا۔ اس سال کی تقریب کا موضوع آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، روبوٹ ٹیکنالوجی اور مفادِ عامہ سے جڑے نئے خیالات پر مبنی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہاں موجود نوجوان صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ شہروں کو بہتر بنانے، جمہوریت کو مضبوط کرنے اور معاشرے کو زیادہ بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس حل پیش کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ وہی نسل ہے جو آئیڈیاز کو انوویشن میں اور انوویشن کو اثر (امپیکٹ) میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے باصلاحیت نوجوانوں کی توانائی، مہارت اور عزم ہندوستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو دنیا میں ایک نوجوان ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اتنی بڑی آبادی ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی نوجوان ملک کو عالمی سطح پر نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ اس ہیکاتھون میں 1 کروڑ سے زائد شرکاء میں سے منتخب ہونے والے 5 ہزار سے زائد نوجوان درحقیقت ہندوستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی سوچ آنے والے وقت میں حکمرانی، معاشرے اور معیشت کی سمت طے کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے ’دہلی 2.0‘ کی تعمیر کی اپیل کی۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ ایسی دہلی تعمیر کی جانی چاہیے جو انوویشن سے متاثر ہو، شمولیت (انکلوزن) سے بااختیار ہو اور جہاں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اعتماد کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نوجوانوں کے خیالات اور ایجادات کو نظامِ حکومت سے جوڑنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کی زندگی کو مزید آسان، شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن