
علی گڑھ،27 مارچ (ہ س)۔
آئندہ مردم شماری میں ہر خاندان سے تقریباً 33 سوالات پوچھے جائیں گے، جن میں گھر میں موجود سائیکل، اسکوٹر، کار اور دیگر گاڑیوں کی تعداد، بجلی کنکشن، کھانا پکانے کے ایندھن (ایل پی جی، لکڑی، کوئلہ) اور پینے کے پانی کے ذرائع سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔ اس عمل کے ذریعے دیہی علاقوں میں آلودگی کی درست صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
اب تک حکومت 2011 کی مردم شماری کے پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ بندی کر رہی تھی، جبکہ گزشتہ 15 برسوں میں دیہات کی حالت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ وسائل اور گاڑیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث آلودگی کی سطح بھی بڑھی ہے۔
نئی مردم شماری سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد پہلی بار گاؤں کی سطح پر کاربن اخراج کا اندازہ لگایا جائے گا۔ اس سے یہ طے کرنا آسان ہوگا کہ کن دیہات میں آلودگی زیادہ ہے اور وہاں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت کاربن نیوٹرل گاؤں بنانے کے لیے مؤثر اور ہدفی حکمت عملی تیار کرے گی۔ ماہرین کے مطابق، اتر پردیش کے ہر گاؤں کے وسائل کی مکمل معلومات دستیاب ہونے سے آلودگی کی سطح کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا اور اسے کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔ اس سے گاؤں کی سطح پر حکمت عملی بنا کر کاربن نیوٹرل ہدف حاصل کرنے میں تیزی آئے گی۔
علی گڑھ ضلع کی بات کریں تو یہاں 852 گرام پنچایتوں میں سے ابھی تک ایک بھی پنچایت مکمل طور پر آلودگی سے پاک نہیں ہو سکی ہے، تاہم سکندرپور ماچھوا اور بھرت پور پنچایت ابتدائی سروے میں آگے چل رہی ہیں۔ ریاستی حکومت نے سال 2030 تک 45 فیصد پنچایتوں کو کاربن نیوٹرل بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ضلع پنچایت راج افسر یتیندر کمار سنگھ کے مطابق، نئی مردم شماری سے دیہی وسائل کے استعمال کی درست معلومات حاصل ہوں گی، جس سے کاربن نیوٹرل گاؤں کی پالیسی بنانے اور اس پر مؤثر عمل درآمد میں آسانی ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ