
کولکاتا، 26 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت ’’لوجیکل ڈسکرپینسی‘‘ (منطقی تضاد) کے زمرے میں نشان زد 60 لاکھ معاملات میں سے 32 لاکھ معاملات کی عدالتی جانچ کا عمل بدھ کی رات تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ معلومات الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی ہے۔
چیف الیکشن آفیسر، مغربی بنگال کے دفتر کے ذرائع کے مطابق، اب تک کل ریفر کردہ معاملات میں سے تقریباً 53 فیصد معاملات کو نمٹایا جا چکا ہے۔ ان 32 لاکھ معاملات میں سے قریب 40 فیصد، یعنی تقریباً 12 لاکھ 80 ہزار ووٹروں کو فہرست سے ہٹانے کے قابل پایا گیا ہے۔
تاہم، جن ووٹروں کو ہٹانے کے قابل سمجھا گیا ہے، انہیں راحت کا موقع دیتے ہوئے ریاست میں تشکیل کردہ 19 اپیلیٹ ٹریبونلز میں اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ فی الحال اس پورے عمل کو 700 سے زائد عدالتی افسران انجام دے رہے ہیں، جن میں پڑوسی ریاستوں اوڈیشہ اور جھارکھنڈ سے آئے ہوئے 100-100 افسران بھی شامل ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو جاری کردہ حتمی ووٹر لسٹ میں، عدالتی جانچ کے لیے بھیجے گئے 60 لاکھ معاملات کو چھوڑ کر، پہلے ہی 63 لاکھ 66 ہزار 952 نام ہٹائے جا چکے تھے۔ اس کے بعد عدالتی جانچ کے دوران 12 لاکھ 80 ہزار مزید نام ہٹانے کے قابل پائے جانے سے کل ہٹائے گئے ووٹروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 77 لاکھ ہو گئی ہے۔
ایس آئی آر کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے، نومبر میں مغربی بنگال میں کل ووٹروں کی تعداد سات کروڑ 66 لاکھ 37 ہزار 529 تھی۔ دسمبر میں شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 58 لاکھ 20 ہزار 899 نام ہٹائے گئے تھے، جسے فروری میں جاری کردہ حتمی فہرست میں بڑھا کر 63 لاکھ 66 ہزار 952 کر دیا گیا۔
دریں اثنا، شمالی بنگال میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اس نظرِ ثانی کے عمل کو لے کر الیکشن کمیشن پر تیکھا حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن اس مشق کے ذریعے ریاست کے لوگوں کو بلاوجہ پریشان کر رہا ہے اور خاص طور پر قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن