آندھرا پردیش میں المناک سڑک حادثہ: 10 مسافروں کی جل کر موت، 20 سے زائد زخمی
حیدرآباد، 26 مارچ (ہ س)۔ آندھرا پردیش کے مارک پورم ضلع میں جمعرات کی صبح ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا۔ ایک تیز رفتار ٹپر (ٹرک) اور نجی بس کے درمیان ہوئی زوردار ٹکر کے بعد دونوں گاڑیوں میں شدید آگ لگ گئی۔ اس دردناک حادثہ میں 10 مسافروں کی موقع پ
آندھرا پردیش میں ہولناک بس حادثہ، دس جاں بحق


حیدرآباد، 26 مارچ (ہ س)۔ آندھرا پردیش کے مارک پورم ضلع میں جمعرات کی صبح ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا۔ ایک تیز رفتار ٹپر (ٹرک) اور نجی بس کے درمیان ہوئی زوردار ٹکر کے بعد دونوں گاڑیوں میں شدید آگ لگ گئی۔ اس دردناک حادثہ میں 10 مسافروں کی موقع پر ہی جل کر موت ہو گئی، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پولیس سے ملی ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ حادثہ صبح 6.00 سے 6.30 بجے کے درمیان رایاورم گاوں کے پاس پیش آیا۔ ’’ہری کرشنا ٹریولز‘‘ کی یہ نجی بس تلنگانہ کے نرمل سے آندھرا پردیش کے نیلور کی طرف جا رہی تھی۔

مارک پورم کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ حادثہ اس وقت ہوا جب بس ایک موڑ مڑ رہی تھی۔ تبھی سامنے سے آنے والے ایک تیز رفتار ٹپر نے اسے ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا زوردار تھا کہ دونوں گاڑیوں نے فوراً آگ پکڑ لی، جس کی وجہ سے مسافروں کو باہر نکلنے کا موقع تک نہیں ملا۔

اب تک 10 مسافروں کے زندہ جل جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تقریباً 20 زخمی مسافروں کو مارک پورم کے نجی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے کچھ کی حالت بے حد نازک بنی ہوئی ہے۔ حادثہ کے وقت بس میں قریب 40 مسافر سوار تھے۔ بس کے اگلے حصے میں بیٹھے تقریباً 10 مسافر کسی طرح جان بچا کر نکلنے میں کامیاب رہے، لیکن پچھلے حصے میں بیٹھے لوگ آگ کے شعلوں میں پھنس گئے۔

آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندر بابو نائیڈو نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعلیٰ نے سینئر حکام سے بات کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مقامی ایم ایل اے کنڈولا نارائن ریڈی نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کر کے امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ پولیس اب بھی ہلاک شدگان کی شناخت کرنے اور حادثے کی درست وجوہات کی جانچ کرنے میں مصروف ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande