
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے بارہ بنکی میں ایک ساتھی کے دفتر میں گھس کر اسے آگ لگانے کے واقعہ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے اسے وکلاءکی غنڈہ گردی قرار دیا اور کہا کہ اس نے قانونی پیشے کی ساکھ کو داغدار کیا ہے۔
یہ کیس 14 جنوری کو ٹول ٹیکس ادا کرنے سے انکار پر وکیل اور ٹول پلازہ کے ملازمین کے درمیان تصادم سے متعلق ہے۔ اس واقعہ کے بعد بارہ بنکی میں وکلاءنے ایک قرارداد پاس کی جس میں کہا گیا کہ کوئی وکیل ٹول ملازمین کی نمائندگی نہیں کرے گا۔ جب وکیل منوج شکلا نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور ٹول ملازمین کی ضمانت کی درخواست دائر کی تو دیگر وکلاءنے مبینہ طور پر ان کے دفتر میں گھس کر فرنیچر کی توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی۔سپریم کورٹ نے ٹول پلازہ کے کارکنوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ بھائی چارے کے نام پر وکلا برادری کی جانب سے تشدد ناقابل قبول ہے۔ سپریم کورٹ نے منوج شکلا کی تعریف کی جنہوں نے دباو¿ کے باوجود مقدمہ لڑا۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے ڈی جی پی کو ٹول پلازہ کے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے مقامی وکلاءکی جانب سے مقدمہ لینے سے انکار کی روشنی میں پوری کارروائی کو اتر پردیش سے دہلی منتقل کر دیا۔ سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ سب سے زیادہ افسوس ناک صورت حال یہ تھی کہ اتر پردیش بار کونسل نے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اور غیر معقول طور پر ریاستی حکومت پر این ایس اے لگانے کا مطالبہ کیا، اس حقیقت کے باوجود کہ اس معاملے میں معمولی جھگڑا ہوا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan