
رائے پور، 18 مارچ (ہ س) چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور کے پچپیڑھی ناکا پر واقع رام کرشنا کیئر اسپتال میں سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران منگل کی رات ایک المناک حادثے میں تین صفائی ملازمین کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی۔
اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سندیپ دوے نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارکن ایک آو¿ٹ سورسنگ ایجنسی کے ذریعے کام کر رہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ نے مرنے والوں کے لواحقین کو فی کس 15 لاکھ روپے معاوضہ اور خاندان کے ایک فرد کو نوکری دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دریں اثنا، حادثے کے بعد اسپتال کے کیمپس میں زبردست ہنگامہ مچ گیا، اور اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔ ٹکراپارہ اور نیو راجندر نگر پولیس اسٹیشنوں کی پولیس جائے وقوعہ پر تعینات ہے۔
ٹکراپارہ پولیس اسٹیشن کے انچارج اور اے ڈی سی پی ویسٹ راہل دیو شرما نے حادثے میں تین مزدوروں کی موت کی تصدیق کی۔ مرنے والوں کی شناخت گووند سیندرا (35)، انمول مچن (25) اور پرشانت کمار (22) کے طور پر کی گئی ہے جو سمرن سٹی علاقہ کے رہنے والے تھے۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ٹکراپارہ پولیس اسٹیشن نے بتایا کہ مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور تحقیقات کے بعد مجرموں کے خلاف مجرمانہ قتل کا الزام عائد کیا جائے گا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے تین نوجوانوں کو سیپٹک ٹینک کی صفائی کے لیے بلایا تھا۔ صفائی کے دوران ٹینک کے اندر موجود زہریلی گیس کے باعث تینوں بے ہوش ہو گئے۔ صورتحال تیزی سے بگڑ گئی اور جائے وقوعہ پر افراتفری مچ گئی۔ فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو بلایا گیا جس نے کافی کوشش کے بعد تینوں کو نکال کر فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے۔
واقعے کے بعد لواحقین کی بڑی تعداد اسپتال کے احاطے کے باہر جمع ہوگئی اور اسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی۔ لواحقین کا الزام ہے کہ مزدوروں کو بغیر کسی حفاظتی سامان کے ٹینک میں اتارا گیا۔ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کارکنوں کو بغیر کسی حفاظتی سامان یا ماسک کے ٹینک میں اتارا گیا تھا۔ حادثہ ٹینک کے اندر انتہائی زہریلی گیس کی موجودگی کے باعث پیش آیا۔
اسپتال انتظامیہ نے واضح کیا کہ یہ ورکرز ایک بیرونی کنٹریکٹ ایجنسی کے ذریعے ملازم تھے۔ اسپتال نے متعلقہ کنٹریکٹ ایجنسی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ صفائی کے ٹھیکیدار کشن سونی نے بتایا کہ وہ رسی لینے گیا تھا جب تک کارکن حفاظتی سامان کے بغیر ٹینک میں داخل ہوگئے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی