ایران نے خطے میں امریکی-اسرائیلی ٹھکانوں کو جائز ہدف قرار دیا، 24 صوبوں میں حملوں سے 200 سے زائد افراد ہلاک
تہران/نیویارک، یکم مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے فوجی تصادم کے درمیان ایران نے سخت موقف اپناتے ہوئے خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں کو ’’جائز فوجی ہدف‘‘ قراردیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سک
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی (فائل فوٹو)


تہران/نیویارک، یکم مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے فوجی تصادم کے درمیان ایران نے سخت موقف اپناتے ہوئے خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں کو ’’جائز فوجی ہدف‘‘ قراردیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر کہا کہ تہران تب تک اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتا رہے گا، جب تک مبینہ ’’جارحیت‘‘ مکمل طور پر اور غیر مشروط بند نہیں ہو جاتی۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور ہوائی حملوں کو ’’مسلح حملہ‘‘ بتایا۔ خط میں کہا گیا کہ ایران معاندانہ کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی تمام ضروری دفاعی صلاحیتوں کا استعمال کرے گا۔

ایران کی وزارت دفاع نے بیان جاری کر کے کہا کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے مکمل ہتھیار اور آلات کی حمایت فراہم کرتا رہے گا، ’’جب تک دشمن کو شکست نہیں ہو جاتی۔‘‘ وزارت نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو ایسی کارروائی بتایا جو بالآخر ان کی ’’ناکامی اور سزا‘‘ کا سبب بنے گی، اور ’’سخت اور پشیمان کرنے والا جواب‘‘ دینے کا انتباہ دیا۔

اس دوران سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک سینئر کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ اب تک صرف ’’پرانے یا محدود‘‘ میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے اور اگلے ردعمل میں زیادہ طاقتور اور غیر متوقع ہتھیار تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پر امریکہ کے حملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران اس کارروائی کی وجوہات کو نہیں سمجھتا اور ممکن ہے کہ امریکی انتظامیہ کو اس میں ’’گھسیٹا گیا ہو۔‘‘ انہوں نے انتباہ دیا، ’’ایران ان لوگوں کو سزا دے گا جو ہمارے بچوں کو مارتے ہیں۔‘‘

حالانکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کی دشمنی امریکی عوام سے نہیں ہے، بلکہ ان پالیسیوں سے ہے جنہیں لے کر انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی شہریوں کو ’’گمراہ‘‘ کیا جا رہا ہے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ترجمان نے مہر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ملک کے 24 صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک کم از کم 201 لوگوں کی موت اور 747 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ریڈ کریسنٹ کی 220 سے زائد ٹیمیں امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو اسپتال پہنچانے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کا کام جاری ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی صورتحال کے درمیان بین الاقوامی برادری مسلسل تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کر رہی ہے، لیکن دونوں فریقوں کے بیانات سے اشارے ملتے ہیں کہ تصادم ابھی تھمتا نظر نہیں آ رہا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande