
تہران،یکم مارچ(ہ س)۔ایرانی قیادت نے گذشتہ ہفتوں کے دوران اس بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کر لیا تھا جو آج سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے اعلان کی صورت میں سامنے آئی ہے، تاہم بظاہر ان کی وصیت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان، سربراہ عدلیہ غلام حسین محسنی اور شوریٰ نگہبان کے ایک رکن عبوری دور کے معاملات چلائیں گے۔قیادت کی عدم موجودگی کی صورت میں آئینی دفعات بالخصوص آئین کے آرٹیکل 111 میں درج ہے کہ قائد کی وفات، استعفیٰ یا معزولی کی صورت میں ماہرین کی کونسل (مجلس خبرگان) پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد نئے قائد کے تعین کے لیے ضروری اقدامات کرے۔نئے قائد کے انتخاب تک ایک کونسل جس میں صدر، سربراہ عدلیہ اور مجلس تشخیص مصلحت نظام کی جانب سے منتخب کردہ شوریٰ نگہبان کا ایک فقیہ شامل ہو۔اگر اس مدت کے دوران ان میں سے کوئی بھی کسی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر رہے، تو کونسل کی جانب سے فقہا کی اکثریت سے منتخب کردہ کوئی دوسرا شخص کونسل میں اس کی جگہ لے گا۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے اعلیٰ ایرانی حکام کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنی ہلاکت سے قبل سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، جو ان کے بااعتماد ترین ساتھیوں میں سے ایک ہیں، کو اپنی اور اپنے بیٹے مجتبیٰ کی ہلاکت کی صورت میں امورِ مملکت چلانے کا پابند کیا تھا۔چھ اعلیٰ ایرانی حکام، پاسداران انقلاب کے 3 ارکان اور سابق سفارت کاروں نے اس وقت واضح کیا تھا کہ لاریجانی نے عملی طور پر جنوری کے آغاز سے ہی، جب ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور امریکی دھمکیاں سامنے آئیں، حساس سیاسی اور سکیورٹی معاملات کی نگرانی سنبھال لی تھی۔اخبار نے مزید بتایا کہ 67 سالہ لاریجانی جو ایک منجھے ہوئے سیاست دان، پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور موجودہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، عملی طور پر ملک کے معاملات چلا رہے تھے۔ان چھ حکام اور پاسداران انقلاب کے ارکان نے اشارہ کیا کہ خامنہ ای نے لاریجانی اور چند محدود سیاسی و عسکری قریبی ساتھیوں کو سخت ہدایات جاری کی تھیں تاکہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کے سامنے’اسلامی جمہوریہ‘کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر کی ہدایات میں ہر اس عسکری یا حکومتی عہدے کے لیے متبادل افراد کی 4 تہیں (لیئرز) مقرر کی گئی تھیں جن پر وہ خود تعیناتی کرتے ہیں اور تمام کمانڈروں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے 4 ممکنہ جانشینوں کے نام نامزد کریں۔انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو فیصلے کرنے کے اختیارات تفویض کیے تھے تاکہ ان سے رابطہ منقطع ہونے یا ان کی ہلاکت کی صورت میں وہ کام جاری رکھ سکیں۔ایرانی قیادت کے منصوبوں میں سیاسی نظام کی بقا کے منظر نامے بھی شامل تھے، جن میں یہ طے کیا گیا تھا کہ خامنہ ای اور اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے بعد ملک کی قیادت کون کرے گا۔قیادت نے اس بات پر بھی غور کیا تھا کہ ایران کی ڈیلس کون ہو سکتا ہے، جو وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک چلانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کیے تھے۔حکام کا خیال تھا کہ اس فہرست میں لاریجانی کا نام سرفہرست ہے، جن کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کا نمبر آتا ہے، حالانکہ حسن روحانی کو سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں سے دور کر دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ہفتے کے روز سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق سے قبل اسرائیل اور امریکہ کو سخت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ناقابلِ فراموش سبق سکھایا جائے گا۔لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہاکہ بہادر سپاہی اور عظیم ایرانی قوم عالمی غاصبوں کو ایسا سبق سکھائیں گے جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan