آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای ایک فکر کا نام تھا وہ ہمیشہ باقی رہے گی: ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی
علی گڑھ، یکم مارچ (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ دینیات کے استا د معروف اسکالر و عالم دین ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہوئی جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو انسانیت قاتل قرار دیا اور کہا ہے کہ موجو
ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی


علی گڑھ، یکم مارچ (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ دینیات کے استا د معروف اسکالر و عالم دین ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہوئی جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو انسانیت قاتل قرار دیا اور کہا ہے کہ موجودہ حالات نہایت افسوسناک ہیں، کیونکہ بے گناہ شہری اس میں نشانہ بن رہے ہیں۔ڈاکٹر ریحان اختر نے ایران کے لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اطہار کرتے ہوئے انھیں ایک فکر قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک فکر تھے جو کبھی مرتی نہیں ہے بلکہ زندہ رہتی ہے،انھوں نے کہا کہ اسرائیل جو کررہا ہے وہ دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مراکز پر حملوں کے باعث نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہیں ہوئی دہائیوں پر محیط جنگوں نیصرفملکوں کوتباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی مذاکرات اور بات چیت ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی قیادت امن کی علمبردارہے اور امن و عدم تشدد کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام شہری جنگ اور خونریزی کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو۔ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے حکومتِ ہند اور عالمی قیادت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات کریں تاکہ خطے میں جاری خونریزی کو روکا جا سکے اور معصوم جانوں کا ضیاع بند ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت دانشمندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے بجائے امن اور مکالمے کو ترجیح دی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande