علی گڑھ میں ایران کے حق میں احتجاجی مارچ، صدرِ جمہوریہ کے نام عرضداشت پیش
علی گڑھ,، یکم مارچ (ہ س)۔ امریکہ اسرائیل کی ایران پر فوجی جارحیت کے خلاف اور مذہبی پیشو آیت اللہ ا علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر علی گڑھ میں ایک پُرامن احتجاجی مارچ نکالا گیا یہ مارچ علی گڑھ کے سول لائن کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے ذریعہ
احتجاج درج کراتے ہوئے


علی گڑھ,، یکم مارچ (ہ س)۔

امریکہ اسرائیل کی ایران پر فوجی جارحیت کے خلاف اور مذہبی پیشو آیت اللہ ا علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر علی گڑھ میں ایک پُرامن احتجاجی مارچ نکالا گیا یہ مارچ علی گڑھ کے سول لائن کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے ذریعہ نکلا گیا جو زہرہ باغ میں جمع ہوئے اور یہاں سے جلوس کی شکل میں طے شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے اے ایم یو سرکل پہنچے جہاں مظاہرین نے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک عرضداشت اے سی ایم سیکنڈ دُروجے سنگھ کوپیش کی۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور عالمی برادری سے انصاف اور امن کی اپیل کی۔عوام سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ شیعہ دینیات کے چیئرمین ڈاکٹر اصغر اعجاز، مولانا بہلول رضا عابدی، مولانا محبوب ہلوری کہا کہ ایران میں حالیہ فوجی کارروائیاں، معصوم شہریوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع اور خودمختاری پر حملے عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ اسرائیل کس طرح انسانیت کا قتل کررہے ہیں۔علی گڑھ کربلا کے متولی سید مختار زیدی نے اور تنظیم العزا کے سیکریٹری سید نادر عباس نقوی نے بتایا کہ ایران میں فوجی جارحیت اور انسانی بحران کے خلاف آج صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا گیا ہے۔ میمورنڈم میں ایران کی حالیہ صورتِ حال پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی۔میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایران میں حالیہ کشیدگی کے دوران سپریم لیڈر اور ان کے اہلِ خانہ کی شہادت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جسے ایک سنگین سانحہ قرار دیا گیا اور یہ کارروائیاں انسانی حقوق اور خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔میمورنڈم میں 13 سے 24 جون 2025 کے دوران ہونے والی ایران۔اسرائیل کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس عرصے میں ایرانی تنصیبات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں اور غیر فوجی شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔مزید کہا گیا کہ حالیہ کارروائیوں میں معصوم شہریوں، خصوصاً طالبات کی ہلاکت کی اطلاعات انتہائی افسوسناک ہیں اور یہ اقدامات انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔میمورنڈم میں صدرِ ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔صدرِ جمہوریہ کے نام پیش کی گئی عرضداشت میں میں حکومت ہند سے چار اہم مطالبات کیے گئے جن میں یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی سخت مذمت کی جائے۔ جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کی حمایت کی جائے۔

طاقت کے غیرمناسب استعمال اور خودمختار سرحدوں کی خلاف ورزی پر بین الاقوامی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔علاقائی اور عالمی استحکام کی بحالی کے لیے کثیر فریقی سفارتی کوششوں کی قیادت کی جائے تاکہ کشیدگی کم ہو سکے۔میمورنڈم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہندوستان ہمیشہ امن، غیر جانبداری اور خودمختاری کے اصولوں کا حامی رہا ہے، اس لیے موجودہ بحران میں بھی اسے مؤثر اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ احتجاج میں کانگریس لیڈر انجینئر آغا یونس بھی موجود رہے انھوں نے بتایا کہ احتجاج پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا اور شرکاء نے عالمی امن اور انصاف کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande