
اسلام آباد/کابل، 28 فروری (ہ س)۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ جیسے حالات بن گئے ہیں۔ آسمان پر جنگی طیارے گرج رہے ہیں۔ بم دھماکوں سے علاقہ لرز اٹھا ہے۔ اس لڑائی میں اب تک کم از کم 325 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس لڑائی میں 270 افغان طالبان اور دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس نے 55 سے زائد پاکستانی فوجیوں کو مار گرایا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اسلام آباد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے دنیا نیوز اور دی افغانستان ٹائمز کی تازہ رپورٹس میں اس موجودہ صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا سمیت افغانستان کے کئی حصوں پر فضائی حملہ کیا ہے۔ افغان طالبان فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ڈورنڈ لائن پر پاکستانی فوج کے ٹھکانوں پر حملے کر کے جوابی کارروائی کی ہے اور سرحد پار جھڑپوں میں 55 پاکستانی فوجیوں کو مار گرایا ہے۔ اقوام متحدہ نے موجودہ تصادم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تصادم 26 فروری کی رات آٹھ بجے شروع ہوا۔ افغان فوجیوں نے جوابی کارروائی میں ڈورنڈ لائن کے مشرقی اور جنوب مشرقی سیکٹرز میں پاکستان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ طالبان کے آرمی چیف کے حکم پر آدھی رات کو کارروائی روک دی گئی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ 55 پاکستانی فوجی مارے گئے۔ دو بیس اور 19 ملٹری پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا۔ پاکستان کے ایک ٹینک کو تباہ کر دیا گیا۔ اس لڑائی میں آٹھ طالبان جنگجو بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تصادم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عام لوگوں پر اس کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان سے فوری طور پر تشدد روکنے کی اپیل کی ہے۔ اس دوران طالبان کا کہنا ہے کہ جمعہ کو خوست اور پکتیکا میں پاکستان کے فضائی حملے میں 19 عام شہریوں کی موت ہو گئی اور 26 زخمی ہو گئے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی صدر مرجانا اسپولجارک نے بھی دونوں ممالک سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
اس لڑائی کے پیش نظر برطانیہ نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے کچھ حصوں کا سفر نہیں کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان-افغانستان سرحد، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں میں تصادم تیز ہو گیا ہے۔ اس لیے ان علاقوں کے آس پاس کا سفر نہ کریں۔ پاکستان میں مقیم برطانوی شہریوں کو گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اس دوران پاکستانی فوج کے شعبہ رابطہ عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس مہم کو ’’غضب للحق‘‘ کا نام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی فوج مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر خطرات کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج تمام محاذوں پر کڑی نگرانی رکھ رہی ہے۔
عسکری ترجمان نے غضب للحق کی کامیابی پر کہا کہ اب تک افغان طالبان انتظامیہ کے 274 اہلکار اور جنگجو مارے گئے ہیں، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کو میدان جنگ کے دستیاب جائزوں پر مبنی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے دشمن کی 73 چوکیوں کو تباہ کر دیا اور 18 پر قبضہ کر لیا۔ مخالف افواج کے 115 ٹینک، آرمرڈ پرسنل کیریئر اور توپیں تباہ کر دی گئیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ملک کا دفاع کرتے ہوئے 12 فوجی شہید ہو گئے، 27 دیگر زخمی ہوئے اور ایک فوجی اب بھی لاپتہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن