عمان کے وزیر خارجہ کا دعویٰ-امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب
واشنگٹن، 28 فروری (ہ س)۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران پر حملہ کرنے کے ارادے کے درمیان عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب ہیں۔ مذاکرات کاروں نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے معاہدے کی سمت میں کا
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی۔ فوٹو: سی بی ایس نیوز


واشنگٹن، 28 فروری (ہ س)۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران پر حملہ کرنے کے ارادے کے درمیان عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب ہیں۔ مذاکرات کاروں نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے معاہدے کی سمت میں کافی پیش رفت کی ہے۔ البوسعیدی پچھلے مہینے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تین دور کی بات چیت میں ثالث کے طور پر موجود رہے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ اس کے پاس کبھی بھی ایسا جوہری مواد نہیں ہوگا جس سے بم بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی رضامندی ہے۔ البوسعیدی کے مطابق، ایران اپنے افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخیرے کو کم کرے گا۔ یہی نہیں وہ اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو معاہدے کی شرائط کی تصدیق کے لیے اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس تصدیق میں امریکہ کے انسپکٹرز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے دیگر تکنیکی پہلووں پر بات چیت پیر کو ویانا میں ہونی ہے۔ البوسعیدی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ کچھ دنوں بعد اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے مل سکیں گے۔ البوسعیدی کے دعوے کے برعکس ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ وہ بات چیت سے خوش نہیں ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ نے اس دوران واضح کیا کہ انہوں نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ حملے کی اجازت دینی ہے یا نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کار پچھلے مہینے تین دور کی بات چیت کر چکے ہیں۔ بات چیت کا پہلا دور عمان، دوسرا اور تیسرا دور سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں ہو چکا ہے۔ ان مذاکرات کے ناکام رہنے پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سخت موقف اپنانے کی بات کہہ چکے ہیں۔ البوسعیدی نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران ہر مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ معاہدے کی شرائط کو نافذ کرنے میں تین مہینے لگ سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande