
تل ابیب،28فروری(ہ س)۔امریکہ اور اسرائیل نے آج ہفتے کے روز ایران کے خلاف اچانک مشترکہ فضائی حملے کیے ہیں، جس کے دوران دارالحکومت تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی دارالحکومت میں اسرائیلی اہداف میں وزارت انٹیلی جنس سمیت اہم حکومتی مراکز اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا دفتر شامل ہے۔ ان حملوں میں حکومتی ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اعلیٰ ایرانی قیادت کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔نشریاتی رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں پاستور اسٹریٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں صدارتی دفتر، ایرانی قومی سلامتی کونسل، رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کا قریبی علاقہ اور مجلس خبرگان واقع ہیں۔اسرائیلی ذرائع نے علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی نظام کے تمام رہنما بشمول علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان ان حملوں کا ہدف ہیں۔تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو تصدیق کی ہے کہ علی خامنہ ای تہران میں نہیں ہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی مہینوں سے کی جا رہی تھی اور اس کا وقت ہفتوں پہلے طے کر لیا گیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اسرائیلی آپریشن امریکہ کے ساتھ مربوط ہے۔علاوہ ازیں اسرائیلی ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ حملوں کا پہلا مرحلہ 4 دن تک جاری رہے گا، اور اسے گذشتہ موسم گرما میں 12 روزہ جنگ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے مقابلے میں ایک ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جواب انتہائی سخت اور تباہ کن ہوگا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز جمعہ کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایٹمی مذاکرات میں ایرانی موقف پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی سرزمین کے اندر کسی بھی قسم کی افزودگی کو قبول نہیں کریں گے۔گذشتہ روز دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ اسرائیل پہنچا، جبکہ ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan