
کراکس،27فروری(ہ س)۔وینزویلا کی قائم مقام خاتون صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنے ملک پر عائد ’محاصرہ اور پابندیاں‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران نکولس مادورو کی معزولی اور گرفتاری کے دو ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد سامنے آیا ہے۔روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں کہا کہ ’وینزویلا پر لگایا گیا محاصرہ اور پابندیاں اب ختم ہونی چاہئیں‘۔انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’دوستوں اور شراکت داروں کے طور پر، ہم امریکہ کے ساتھ تعاون کے ایک نئے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں‘۔یہ خطاب ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے بدھ کو اپنے’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے دوران وینزویلا کو ’امریکہ کا نیا دوست اور شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ’ہمیں ابھی اپنے نئے دوست اور شراکت دار وینزویلا سے 8 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل موصول ہوا ہے‘۔امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ 3 جنوری کو امریکی افواج نے کراکس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر لیا تھا۔ انھیں نیویارک منتقل کیا گیا جہاں ان پر منشیات سے متعلق الزامات عائد کیے گئے۔تب سے وینزویلا سیاسی بد امنی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں نکولس مادورو کی نائب صدر رہنے والی ڈیلسی روڈریگز نے ملک کی قیادت سنبھالی ہے۔ وہ امریکی حکومت کےلئے رابطے کا ایک اہم نقطہ بن گئی ہیں، خاص طور پر ملک کے تیل کے بڑے ذخائر کے بارے میں مذاکرات کے حوالے سے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan