
ریاض،27فروری(ہ س)۔شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد و خدمات نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے گرم کھانا تیار کرنے کے لیے سینٹرل کچن کا افتتاح کر دیا ہے۔ یہ اقدام سینٹرل کچن کی ترقی اور اسے فعال کرنے کے منصوبے کے ذریعے کیا گیا ہے، جو غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی امداد کے لیے سعودی عوامی مہم کے تحت سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹیج کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ غزہ کی پٹی میں ایک مربوط سینٹرل کچن کو ترقی دیتا ہے تاکہ رمضان المبارک کے آغاز سے روزانہ (24,000) گرم کھانے تیار کیے جا سکیں، جس سے غزہ کی پٹی کے علاقوں دیر البلح اور القرارہ میں بے گھر اور متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے جانے والے کھانوں کی کل تعداد (3,600,000) تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے کھانا کھلانے کے عمل میں عطیہ دہندگان کو بھی شامل کیا جائے گا۔مزید برآں یہ منصوبہ انھیں بے گھر خاندانوں کی تکالیف کم کرنے اور یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے میں براہ راست حصہ لینے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینٹرل کچن کو ترقی دینے اور اسے فعال کرنے کا مقصد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کام کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے تاکہ یہ فلسطینی خاندانوں کے لیے غذائی امداد کا ذریعہ بنا رہے۔ اس عمل میں تیاری، پیداوار اور تقسیم کے تمام مراحل میں اعلیٰ ترین صحت کے معیارات پر عمل درآمد کے ذریعے خوراک کے معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور انتہائی ضرورت مند خاندانوں تک متوازن گرم کھانوں کی رسائی ممکن بنائی جائے گی۔اس منصوبے کا مقصد مقامی وسائل کو فعال کرنا اور گرم کھانے کی تیاری اور فراہمی کے لیے غزہ کی پٹی کے اندر موجودہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی امداد کے رد عمل میں ان کے کردار کو بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ (40) مرد و خواتین کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے جو متاثرہ خاندانوں کی آمدنی میں بہتری کا سبب بنے گا۔ اس منصوبے سے یومیہ (24) ہزار افراد مستفید ہوں گے۔شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد و خدمات کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کو دیے گئے ایک بیان میں وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران انسانی تاریخ کے بڑے بحرانوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے کہ غزہ کی پٹی میں تمام فلسطینی عوام کو نقل مکانی اور انتہائی ضروری انسانی ضروریات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسی تناظر میں انہوں نے ذکر کیا کہ غزہ کی پٹی میں 90% سے زائد فلسطینی عوام غربت کی حد تک پہنچ چکے ہیں، جس کی وجہ خوراک، پانی، ادویات اور بچوں و شیر خوار بچوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کا نہ ہونا ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام پر آنے والے اس بحران کے آغاز سے ہی سعودی قیادت نے ایک فضائی اور ایک بحری پل کے ساتھ ساتھ زمینی قافلے روانہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan