
جنیوا،27فروری(ہ س)۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کے بعد ایک باخبر ذریعے نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں براہ راست مذاکرات کیے ہیں۔ یہ معلومات سی این این کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق جوہری مذاکرات کا تیسرا دور دو طریقوں سے منعقد ہوا۔ پہلا بالواسطہ ہوا جس میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پہنچا رہے تھے اور دوسرا امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان براہ راست منعقد ہوا۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ عراقچی اور وٹکوف کی ملاقات سفارتی آداب کے دائرے میں تھی اور یہ صرف مصافحہ تک محدود رہی۔دریں اثنا ’ ایکسیوس‘ کے مطابق ایک اور باخبر ذریعے نے بتایا کہ وائٹ ہاو¿س کے ایلچی سٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جنیوا میں صبح کے مذاکراتی سیشن کے دوران ایرانیوں سے جو کچھ سنا، اس پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اسی تناظر میں ایک ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ تہران کی تجویز ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرتی ہے بشرطیکہ امریکہ سنجیدگی دکھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے لیے ہماری تجویز میں پابندیوں کے خاتمے اور سرمایہ کاری سے متعلق امور شامل ہیں۔یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ عمانی سفیر کی رہائش گاہ ، جو جنیوا کے قریب ہے، پر جمعرات کی سہ پہر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے تیسرے دور کی بحالی کے لیے واپس پہنچے۔ اس سے قبل مذاکرات کے پہلے تین گھنٹے کے سیشن کے بعد بریک کی گئی تھی۔ امریکی اور ایرانی وفود کی گاڑیاں چند گھنٹوں کے وقفے کے بعد مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کے قریب رہائش گاہ میں داخل ہوتے دیکھی گئیں۔ایک اعلیٰ سطح کے ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر واشنگٹن جوہری اور غیر جوہری مسائل کو الگ کر دے تو امریکہ اور ایران جوہری معاہدے کے فریم ورک تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنیوا میں مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران باقی ماندہ اختلافات کو کم کیا جانا چاہیے۔ عہدیدار نے ان مذاکرات کو شدید اور سنجیدہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ نئے خیالات ہیں جن پر تہران کے ساتھ بحث کی ضرورت ہے اور ابھی بھی کچھ اختلافات یا خلا کو پر کرنے کی ضرورت باقی ہے۔واضح رہے ایرانی جوہری پروگرام پر دہائیوں سے جاری تنازع کے حوالے سے یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سائے میں ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے اور امریکی افواج خطے میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے اور امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan