ایئراسٹرائک کے بعد افغانستان-پاکستان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ، چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ
ایئراسٹرائک کے بعد افغانستان-پاکستان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ، چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کابل/اسلام آباد، 26 فروری (ہ س)۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نش
ایئراسٹرائک کے بعد افغانستان-پاکستان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ، چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ


ایئراسٹرائک کے بعد افغانستان-پاکستان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ، چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ

کابل/اسلام آباد، 26 فروری (ہ س)۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی گئی ایئراسٹرائک کے بعد اب افغانستان کی طالبان حکومت نے جوابی فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ گزشتہ تقریباً 48 گھنٹوں سے دونوں ممالک کے درمیان اکا دکا فائرنگ جاری تھی، جو اب بھاری ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ گئی ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ عام شہریوں کی موت کے جواب میں افغان فوج نے پاکستان کے فوجی ٹھکانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق، افغان فورسز ملٹی بیرل راکٹ لانچر، ٹینک، آرٹلری اور مارٹر کا استعمال کر رہی ہیں۔

طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ننگرہار-خیبر اور کنار-باجور سرحدی علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں پاکستان کی 15 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ننگرہار سرحد کے پاس دو، گوشتہ علاقے کے قریب تین اور کنار سرحد پر دو چوکیوں پر افغان فورسز کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کئی پاکستانی فوجیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

حالانکہ، پاکستان کی جانب سے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کشیدگی کی شروعات 22 فروری کو ہوئی، جب پاکستانی فوج کے لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع نیز صوبہ پکتیکا کے برمل اور ارگون علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ایک ہی خاندان کے 16 شہریوں کی موت ہوئی۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ کارروائی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف تھی، جبکہ طالبان انتظامیہ نے اسے شہریوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور جوابی کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

سرحد پر بڑھتے فوجی تصادم سے علاقائی سلامتی کو لے کر تشویش گہری ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی سرحد پار سرگرمیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کو لے کر الزام تراشی ہوتی رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر کشیدگی کم نہیں ہوئی، تو یہ تصادم وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande