
حیدرآباد،24 فروری (ہ س)۔ حیدرآباد سے گواجانے والے سیاحوں اورمسافروں کے لئے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ اب ان دونوں شہروں کے درمیان طویل سفرکاوقت آدھا رہ جائے گا۔ فی الحال سڑک کے ذریعہ حیدرآباد سے گواپہنچنے میں 15 سے 18 گھنٹے لگتے ہیں لیکن مرکزکی جانب سے تعمیر کئے جانے والے نئے گرین فیلڈہائی وے کی تکمیل کے بعدیہ فاصلہ صرف8گھنٹوں میں طے کیا جا سکے گا۔مرکزی حکومت نے بھارت مالا پریوجنا کے تحت اس اہم پروجیکٹ کا آغاز کیاہے جس کامقصد سفر کے وقت کوکم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لئے اراضی کے حصول کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ بیلگاوی اور رائچور کے درمیان اراضی کی خریداری مکمل ہوکرسول ورک بھی شروع ہوچکا ہے۔ یہ نیا ہائی وے پناجی۔ بیلگاوی۔ رائچور۔حیدرآباد کے راستے سے گزرے گا جسے اکنامک 10 کاریڈورکانام دیا گیا ہے۔ فی الحال مسافر پناجی۔ہبلی۔کوپل۔رائچوراورمحبوب نگرکے راستے سفرکرتے ہیں لیکن یہ نیامتبادل راستہ سفر کو انتہائی آسان بنا دے گا۔ تقریباً 12ہزارکروڑروپے کی لاگت سے تیارہونے والے اس فورلین ایکسیس کنٹرولڈروڈ کی بدولت تلنگانہ، کرناٹک اور گوا کے درمیان رابطہ مزیدبہتر ہوں گے۔حکام کے مطابق حیدرآباد اور گوا کے درمیان موجودہ فاصلہ 700 کلومیٹر ہے جو اس گرین فیلڈ ہائی وے کے بننے سے تقریباً 150 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مال برداری میں بھی تیزی آئے گی جس سے اس خطہ میں نئی صنعتوں کے قیام کی راہیں ہموار ہوں گی۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق