جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سڑک حادثات میں کمی درج کی گئی
جموں, 24 فروری (ہ س)جموں و کشمیر حکومت نے گزشتہ تین برسوں کے دوران سڑک حادثات میں 13.6 فیصد کمی درج کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حادثات کی تعداد 2023 میں 6,120 تھی جو 2024 میں کم ہو کر 5,726 اور 2025 میں مزید گھٹ کر 5,287 رہ گئی۔حکام کے مطاب
Accident


جموں, 24 فروری (ہ س)جموں و کشمیر حکومت نے گزشتہ تین برسوں کے دوران سڑک حادثات میں 13.6 فیصد کمی درج کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حادثات کی تعداد 2023 میں 6,120 تھی جو 2024 میں کم ہو کر 5,726 اور 2025 میں مزید گھٹ کر 5,287 رہ گئی۔حکام کے مطابق اس کمی کا سبب ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، وسیع پیمانے پر روڈ سیفٹی بیداری پروگرام اور پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں روڈ سیفٹی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ سال 2024 اور 2025 کے دوران ہر سال 10 ہزار سے زائد آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، ڈرائیوروں کے طبی اور آنکھوں کے معائنے کیے گئے جبکہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی فراہم کی گئی۔ حکومت نے گڈ سمرتن اسکیم اور روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ نافذ کیا ہے تاکہ متاثرین کو کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

ٹریفک نفاذ کے شعبے میں مکمل طور پر ای-چالان نظام اپنایا گیا ہے۔ سال 2024 میں 40,197 ای-چالان جاری کیے گئے، 429 گاڑیاں ضبط اور 2,259 ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے۔ جبکہ 2025 میں کارروائی مزید سخت کرتے ہوئے 52,543 ای-چالان جاری، 1,528 گاڑیاں ضبط اور 1,641 لائسنس معطل کیے گئے۔ اسی دوران 10,439 گاڑیاں بلیک لسٹ اور 1,192 رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کیے گئے۔

احتیاطی اقدامات کے تحت 2025 میں 4,545 رجسٹرڈ اسکول بسوں کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے 472 میں خامیاں پائی گئیں۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد 450 بسوں نے خامیاں دور کر لیں۔ اسی طرح 102 ڈرائیونگ ٹریننگ اسکولوں کا معائنہ کیا گیا جن میں 81 قواعد کے مطابق پائے گئے جبکہ 21 کو نوٹس جاری کیے گئے۔ گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیشن کے دوران اسپیڈ لمیٹنگ ڈیوائسز کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

روڈ سیفٹی پالیسی جو 2016 میں نوٹیفائی کی گئی تھی، اسے 2025 میں سپریم کورٹ کمیٹی برائے روڈ سیفٹی کی سفارشات کے مطابق قومی معیارات سے ہم آہنگ کیا گیا۔ نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے روڈ سیفٹی فنڈ کے تحت 213 موٹر سائیکلیں، 19 موبائل انٹرسیپٹر گاڑیاں، 16 ہائی وے پیٹرول گاڑیاں، 23 کرینیں، 685 باڈی وورن کیمرے، 64 بریتھ الکوحل اینالائزر اور دیگر ٹریفک کنٹرول آلات خریدے گئے۔محکمہ لیگل میٹرولوجی نے 218 ہیلمٹ فروخت کرنے والوں کا معائنہ کیا، 69 معاملات درج کیے اور 4,750 غیر معیاری ہیلمٹ ضبط کیے تاکہ صرف بی آئی ایس مارک شدہ ہیلمٹ کی فروخت یقینی بنائی جا سکے۔

انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اسمارٹ سٹی مشن کے تحت جموں اور سرینگر میں فعال ہو چکا ہے۔ باقی اضلاع کے لیے 107.32 کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت 25 چوراہوں اور 188 کوریڈورز کو شامل کیا جائے گا۔ نئے سڑک منصوبوں کے لیے روڈ سیفٹی آڈٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔آر اے وی ا یف کے تحت معاوضہ کی رقم اموات کی صورت میں ایک لاکھ روپے، مستقل معذوری پر 75 ہزار روپے، شدید زخمی ہونے پر 50 ہزار روپے اور معمولی زخمی ہونے پر 10 ہزار روپے مقرر ہے۔

جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن دور دراز اور بین ریاستی علاقوں میں خدمات فراہم کر رہا ہے۔ جموں سے پرنی ٹاپ اور سدھ مہادیو-منتلائی تک ای بس سروس کی تجویز زیر غور ہے تاہم ادھم پور سے آگے چارجنگ انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باعث اسے فی الحال قابل عمل نہیں سمجھا گیا۔

جے کے آر ٹی سی اس وقت شہری روٹس پر 100 کلومیٹر رینج کی حامل 20 الیکٹرک بسیں چلا رہا ہے جبکہ پی ایم ای ڈرائیو اسکیم کے تحت مزید 200 الیکٹرک بسیں حاصل کرنے کی تجویز بھی زیر عمل ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande