
رانچی، 24 فروری (ہ س)۔ جھارکھنڈ کی زراعت، مویشی پروری اور امداد باہمی کی وزیر شلپی نیہا ترکی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایوان میں منظور کیا گیا ایک لاکھ 58ہزار 560کروڑ روپے کا بجٹ ریاست کے مستقبل کو ایک نئی سمت دے گا۔ اس کل بجٹ کے اندر زراعت، مویشی پروری اور کوآپریٹو محکموں کے لیے چار ہزار 884 کروڑ 20 لاکھ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر شلپی نیہا ترکی نے منگل کو ایوان کے احاطے میں کہا کہ یہ بجٹ خاص طور پر کسانوں، خواتین کسانوں اور دیہی معیشت کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سال 2026 کو خواتین کسانوں کا عالمی سال قرار دیا گیا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ریاستی حکومت نے مہیلا کسان خوشحالی یوجنا شروع کی ہے، جس کے لیے 25 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت خواتین کاشتکاروں کو مربوط فارمنگ ماڈلز سے جوڑا جائے گا اور انہیں جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔ وہ آف لائن اور آن لائن مارکیٹنگ پلیٹ فارمز سے بھی منسلک ہوں گے۔
وزیر ترکی نے بتایا کہ نتائج کے بجٹ کی بنیاد پر اس سال 17 محکموں کی 232 خواتین سے متعلق اسکیموں کو شامل کرکے صنفی بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کل 34 ہزار 211 کروڑ 27 لاکھ روپے کی رقم کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کا معاشی ڈھانچہ بنیادی طور پر زراعت پر مبنی ہے، اس لیے حکومت کی ترجیح کسانوں کو قرض سے پاک کرنا اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ تازہ ترین پیریڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس ) کے مطابق زراعت کے شعبے میں روزگار کا فیصد گزشتہ سہ ماہی میں 44.3 فیصد سے بڑھ کر 50.4 فیصد ہو گیا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ برسا سیڈ پروڈکشن ایکسچینج ڈسٹری بیوشن اور کراپ ایکسٹینشن اسکیم کا بجٹ 95 کروڑ روپے سے بڑھا کر 145 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ مٹی اور پانی کے تحفظ کے تحت ویسٹ لینڈ رائس فیلو سب اسکیم اور جل ندھی سب اسکیم کے لیے 475 کروڑ 50 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ کرشی سمردھی اسکیم (شمسی توانائی پر مبنی) کے لیے 75 کروڑ روپے، زرعی آلات کی تقسیم کی اسکیم کے لیے 80 کروڑ روپے، جس کے تحت منی ٹریکٹر، پاور ٹِلر، پمپ سیٹ، ریپر اور ٹرانسپلانٹر تقسیم کیے جائیں گے۔ جھارکھنڈ اسٹیٹ ملیٹ مشن کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کیش کراپ ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسٹینشن اسکیم کے لیے 19 کروڑ 88 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ریاستی ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت 245 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مویشی پروری کی وزیر نے بتایا کہ مکھیہ منتری پشو دھن وکاس یوجنا کے لیے 481.35کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گرڈیہ اور سرائیکیلا میں 50,000 لیٹر یومیہ کی گنجائش والی نئی ڈیرییں قائم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ، جھارکھنڈ دودھ فیڈریشن کو 20 میٹرک ٹن فی دن ملک پاو¿ڈر پلانٹ اور رانچی میں اعلیٰ صلاحیت والے دودھ کی مصنوعات کے پلانٹ کے قیام کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ برسا پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے لیے 400 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر اسمبلی حلقہ میں پہلے مرحلے میں لیمپس/پیکس میں کوآپریٹو مارکیٹنگ کمپلیکس کم سولر پینل پر مبنی کولڈ روم تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے 162 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کے لیے 100 ایم ٹی کے 48 گودام، 500 ایم ٹی کے 24 گودام اور 2500 ایم ٹی کے 72 گودام تعمیر کیے جائیں گے، جن پر 160 کروڑ 26 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ تالاب اور ریزروائر فشریز ڈیولپمنٹ اینڈ رینیویشن اسکیم کے لیے 106 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر شلپی نیہا ترکی نے کہا کہ یہ بجٹ زراعت کے شعبے میں مجموعی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور دیہی معیشت کو نئی طاقت فراہم کرے گا اور جھارکھنڈ کو خود انحصار زرعی ریاست بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد