تلنگانہ کی شناخت کے تحفظ اور نظریاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ’ٹاسک‘ کا آغاز
حیدرآباد،23 فروری (ہ س)۔ تلنگانہ کی ثقافتی اور سیاسی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سینئر صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں نے تلنگانہ اسٹڈی اینڈ ڈلیبریشن سنٹر( ٹی اے ایس کے) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ افتتاحی اجلاس کی صدا
تلنگانہ کی  شناخت کے تحفظ اور نظریاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ’ٹاسک‘ کا آغاز


حیدرآباد،23 فروری (ہ س)۔ تلنگانہ کی ثقافتی اور سیاسی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سینئر صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں نے تلنگانہ اسٹڈی اینڈ ڈلیبریشن سنٹر( ٹی اے ایس کے) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ای راجو سرینواس نے کی، جس میں اس بات پر زور دیاگیا کہ تلنگانہ کی منفرد شناخت کو کمزورکرنے والی قوتوں کےخلاف ایک منظم نظریاتی تحریک کی فوری ضرورت ہے۔

افتتاحی اجلاس کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے سینئرایڈیٹر تنکشالا اشوک نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کو ان عناصر سے پوشیدہ خطرہ لاحق ہے جو اس کی شناخت کو مٹانا چاہتے ہیں۔ آنجہانی پروفیسر جے شنکرکی خدمت کو راجہ عقیدت پیش کیا اور عوام کو گمراہ کن معلومات سے آگاہ کرنے کے لیے منظم، صبر آزما اور مسلسل نظریاتی جدوجہد کی اپیل کی۔

تاریخی پس منظر اور ذمہ داریوں سے واقف کراتے ہوئے سینئر صحافی پی۔ وینوگوپالا سوامی نے ریاست کے قیام سے قبل کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال بیرونی حکمرانوں کی سازشوں کا نتیجہ تھی۔

انہوں نے کہاکہ ٹی اے ایس کے کی بنیادی ذمہ داری ان افراد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جنہوں نے ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کی اور اب اس کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔پروفیسر کے۔ سیتارام راؤ نےآندھرا نوآبادیات کو ایک مسلسل خطرہ قرار دیا جو اب حکومتی ڈھانچوں سے ہم آہنگ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سازشوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل اور ورکشاپس کا انعقاد ضروری ہے۔ٹاسک کی قیادت ڈاکٹر ایروجو سرینواس (کنوینر) کریں گے، جبکہ ایچ۔ رویندر اور ایم۔ سریش کمار شریک کنوینرز ہوں گے۔ مشاورتی بورڈ میں پروفیسر کے۔ سیتارام راؤ، تنکشالا اشوک اور پی۔ وینوگوپالا سوامی جیسے ممتاز افرادشامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande