
جموں, 23 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اٹل ڈلو نے ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم سے متعلق سوشل ویلفیئر محکمہ کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی اور آنگن واڑی مراکز کو بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے متحرک مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے وقت بند اور نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں کمشنر سکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، کمشنر سکریٹری سوشل ویلفیئر، پراجیکٹ ڈائریکٹر سمگرہ شکشا، منیجنگ ڈائریکٹر مشن پوشن، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں و کشمیر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
چیف سکریٹری نے قومی تعلیمی پالیسی اور ’وکست بھارت‘ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے بچوں میں بروقت سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غذائیت، اسکول تیاری اور بنیادی تعلیمی نتائج میں بہتری کے لیے تمام محکمے باہمی تال میل کے ساتھ مقررہ مدت میں اہداف حاصل کریں۔
کمشنر سکریٹری سوشل ویلفیئر سرمد حفیظ نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 28,190 آنگن واڑی مراکز کے ذریعے 3 تا 6 سال کے بچوں کو پری اسکول ایجوکیشن، اضافی غذائیت، حفاظتی ٹیکہ کاری، نشوونما کی نگرانی اور خصوصی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’نوچیتنا‘ (0–3 سال) اور ’آدھرشلا‘ (3–6 سال) فریم ورک کے تحت کھیل پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر مشن پوشن سجاد حسین گنائی نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ صحت کے ساتھ اشتراک کے تحت آنگن واڑی ورکرز اور آشا کارکنان کے لیے مشترکہ ہوم وزٹس، ویلیج ہیلتھ، سینی ٹیشن اینڈ نیوٹریشن ڈیز اور ترقیاتی تاخیر کی اسکریننگ کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے تمام آنگن واڑی مراکز کو قریبی پرائمری اسکولوں سے منسلک کر دیا ہے جبکہ 657 مراکز کو مشترکہ مقام پر منتقل کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ پری اسکول سے گریڈ اول تک ہموار منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں ڈیجیٹل نظام کو مستحکم بنانے، کیو آر کوڈ پر مبنی پروفائلنگ، ’ون چائلڈ، ون کارڈ‘ اقدام اور پوشن ٹریکر سمیت مختلف پلیٹ فارمز کے انضمام پر بھی غور کیا گیا۔ سکشم آنگن واڑی و پوشن 2.0‘ کے تحت پری اسکول بچوں کے لیے اے پی اے اے آر آئی ڈیز جاری کی جا رہی ہیں اور مارچ 2026 تک مکمل ہدف حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
چیف سکریٹری نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت دی کہ تمام محکمے مشن موڈ میں کام کرتے ہوئے مربوط کوششوں سے زمینی سطح پر ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر