لوگوں کو نوکری کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں کیرالہ کا ایک شخص گرفتار
بلیا، 23 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش کے بلیا ضلع کے سکندر پور قصبے میں جبری مذہب تبدیلی کے معاملے میں پولیس نے پیر کو کیرالہ سے ایک شخص کو گرفتار کیا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی 22 فروری کو سکندر پور پولیس اسٹیشن میں درج شکا
مذہب


بلیا، 23 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش کے بلیا ضلع کے سکندر پور قصبے میں جبری مذہب تبدیلی کے معاملے میں پولیس نے پیر کو کیرالہ سے ایک شخص کو گرفتار کیا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی 22 فروری کو سکندر پور پولیس اسٹیشن میں درج شکایت اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر کی۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (نارتھ) دنیش کمار شکلا نے پیر کے روز بتایا کہ بجرنگ دل کے ضلع کوآرڈینیٹر پرتیک کمار رائے نے سکندر پور پولیس اسٹیشن میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مینا پور علاقے میں ڈاکٹر فرید کے مکان میں کرائے پر رہنے والا ایک شخص مبینہ طور پر مقامی باشندوں خصوصاً خواتین کو ملازمت کی پیشکش کر کے عیسائیت قبول کرنے کا لالچ دے رہا ہے۔ اس کے بعد سکندر پور پہنچی پولیس نے تفتیش کی، ضروری دستاویزات قبضے میں لے کر جوز تھامس ولد تھامس لوکاس ساکنہ نیو پاٹلی پترا کالونی پٹنہ (بہار) کو حراست میں لے کر تھانے لے آئی۔ بعد میں، پولیس نے جوز تھامس کو مذہب کی تبدیلی پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

اے ایس پی نے بتایا کہ ملزم اصل میں کیرالہ کا رہنے والا ہے۔ اس پر سکندر پور میں رہ کر لوگوں کو پیسے اور نوکریوں کا لالچ دے کر عیسائیت اختیار کرنے کی ترغیب دینے کا الزام ہے۔ ملزم جوز اب تک پندرہ بیس لوگوں کا مذہب تبدیل کر چکا ہے۔ الزام ہے کہ جوز تھامس ہندو دیوی دیوتاو¿ں کو گالی دیتا تھا اور اپنے عیسائی مذہب کی عظمت اور بھگوان عیسیٰ کے فضل کے بارے میں بتا کر لوگوں کو پیسے اور نوکری وغیرہ کا لالچ دے کر عیسائیت اختیار کرنے پر اکساتا تھا، اس الزام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے لارڈ جیسس سے متعلق 124 کتابیں، ایک ڈی جے سسٹم، تین مائیکروفون، دو کیبلز، ایک ساو¿نڈ باکس، ایک پی اے سسٹم اور ایک ڈیٹا کیبل برآمد ہوئی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande