
کولکاتا، 7 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کو لے کر بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ڈی جی پی پینل کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس عمل میں تاخیر اور سنگین خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے ریاستی حکومت کو سپریم کورٹ سے رہنمائی لینے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ فیصلہ ممتا بنرجی حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ قائم مقام ڈی جی پی راجیو کمار 31 جنوری 2026 کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، باقاعدہ ڈی جی پی کی تقرری پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔
ریاست کے چیف سکریٹری کو لکھے گئے خط میں، یو پی ایس سی نے پرکاش سنگھ بمقابلہ یونین آف انڈیا میں سپریم کورٹ کے 2006 کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں ڈی جی پی کی تقرری کے لیے ایک سخت ٹائم لائن اور واضح طریقہ کار طے کیا گیا تھا۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے لازمی ہے کہ وہ ڈی جی پی کے عہدہ کے لیے خالی ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل پینل بھیجے اور پورا عمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہو۔
ریاستی حکومت کے ذرائع کے مطابق، مغربی بنگال حکومت نے 16 جولائی اور 23 جولائی 2025 کو کمیشن کو خط لکھ کر ڈی جی پی پینل تیار کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، یو پی ایس سی نے اس تجویز کو واپس کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ڈی جی پی کی سابقہ تقرری میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے موجودہ قواعد کے تحت آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔
بنگال حکومت نے جان بوجھ کر راجیو کمار کی تقرری میں تاخیر کی۔
اس معاملے کی جڑ دسمبر 2023 کا ہے۔ راجیو کمار کو 28 دسمبر 2023 کو ہی عبوری ڈی جی پی مقرر کیا گیا تھا، منوج مالویہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد، جو ریاست کے آخری باقاعدہ ڈی جی پی تھے۔
قواعد کے مطابق، پینل کو ستمبر 2023 تک، ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ریاستی حکومت نے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، جولائی 2025 میں یہ تجویز پیش کی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تاخیر جان بوجھ کر کی گئی، تاکہ راجیو کمار مدت پوری کر سکیں۔
اس تاخیر کو ایک سنگین طریقہ کار کی خرابی سمجھا جارہا ہے اور اس نے موجودہ صورتحال کو جنم دیا ہے۔ یو پی ایس سی کی ایمپینلمنٹ کمیٹی نے 30 اکتوبر 2025 کو ریاستی حکومت کی تجویز اور وضاحتوں کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگ کی۔ تاہم ارکان کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد کمیشن نے اٹارنی جنرل آف انڈیا آر وینکٹرامانی سے قانونی رائے طلب کی۔
ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل نے خبردار کیا کہ تاخیر کی تجویز کی منظوری سے اہل افسران کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے سپریم کورٹ سے اجازت لے۔ اس مشورے کی بنیاد پر، یو پی ایس سی نے پینل کو منظور کرنے سے انکار کر دیا، یہ واضح کرتے ہوئے کہ ریاستی حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔
مغربی بنگال حکومت پر اب دباؤ ہے کہ وہ جلد از جلد سپریم کورٹ سے رجوع کرے اور ڈی جی پی پینل کے بارے میں واضح رہنما خطوط حاصل کرے۔ مزید تاخیر ریاست کو باقاعدہ پولیس سربراہ کے بغیر چھوڑ دے گی جس سے امن و امان اور انتظامیہ متاثر ہو سکتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی