بھارت کی تہذیبی دانش قیادت کے لازوال اسباق پیش کرتی ہے: نائب صدرِ جمہوریہ
نئی دہلی،07جنوری(ہ س)۔نائب صدر جمہوریہ ہند سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج ہندول سین گپتا کی تصنیف کردہ کتاب ”سنگ، ڈانس اینڈ لیڈ: سریلا پربھوپادا کی زندگی سے قیادت کے اسباق“ کی رسمِ اجرا انجام دی۔ یہ تقریب نائب صدرِ جمہوریہ کی رہائش گاہ، نئی دہلی میں منع
بھارت کی تہذیبی دانش قیادت کے لازوال اسباق پیش کرتی ہے: نائب صدرِ جمہوریہ


نئی دہلی،07جنوری(ہ س)۔نائب صدر جمہوریہ ہند سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج ہندول سین گپتا کی تصنیف کردہ کتاب ”سنگ، ڈانس اینڈ لیڈ: سریلا پربھوپادا کی زندگی سے قیادت کے اسباق“ کی رسمِ اجرا انجام دی۔ یہ تقریب نائب صدرِ جمہوریہ کی رہائش گاہ، نئی دہلی میں منعقد کی گئی۔نائب صدرِ جمہوریہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو ایک تہذیبی رہنما قرار دیا اور کہا کہ اس کی روایات میں ہمیشہ اقدار، خدمت اور باطنی نظم و ضبط پر مبنی قیادت کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سریلا پربھوپاد کی زندگی اسی روایت کا مضبوط تسلسل ہے، جو مقصدیت، انکساری اور اخلاقی وضاحت پر قائم قیادت کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

نائب صدرِ جمہوریہ نے مشاہدہ کیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سوامی پربھوپاد کے افکار اور تعلیمات آج پہلے سے کہیں زیادہ موزوں اور بامعنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی پربھوپاد نے ایسے ادارے قائم کیے جو نسلوں تک انسانیت کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی قیادت کا حقیقی معیار یہ ہے کہ اگرچہ بہت سے لوگ ان کا نام نہ بھی جانتے ہوں، لیکن دنیا بھر میں لاکھوں افراد ان کے کام اور اس کے دیرپا اثرات سے متاثر ہیں۔نائب صدرِ جمہوریہ نے یاد دلایا کہ بڑھاپے کی عمر میں سوامی پربھوپاد نے براعظموں پر محیط ایک غیر معمولی سفر اختیار کیا، جس میں وہ محض ایک مذہبی فلسفہ نہیں بلکہ نظم و ضبط، عقیدت اور مسرت پر مبنی طرزِ زندگی ساتھ لے کر گئے۔ 1966 میں بین الاقوامی سوسائٹی برائے کرشن شعور کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی عالمی کامیابی اس قیادت کی گواہ ہے جو اختیار کے بجائے یقین، خدمت اور واضح وژن پر قائم تھی۔

کتاب کے مرکزی موضوع کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ”گائیے، رقص کریئے اور قیادت کریئے “ یہ طاقتور تصور پیش کرتی ہے کہ قیادت خوشگوار، شراکتی اور گہرے انسانی جوہر کی حامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوامی پربھوپاد نے حکم کے ذریعے نہیں بلکہ ترغیب کے ذریعے قیادت کی، سادگی اور عقیدت سے وابستہ رہتے ہوئے دیرپا ادارے قائم کیے۔سنت شاعر تھیروولّور کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ قیادت کی ابتدا فکر کی وضاحت اور بلند باطنی بصیرت سے ہوتی ہے، جسے بعد ازاں اجتماعی عمل میں ڈھالنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب سوامی پربھوپادا کی زندگی کو اخلاقی اور انقلابی قیادت کے ایک مطالعاتی نمونے کے طور پر مو¿ثر انداز میں پیش کرتی ہے، جو تاریخ، فلسفہ اور معاصر قیادتی فکر کے درمیان پ±ل قائم کرتی ہے۔

نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ اس نوعیت کی تصانیف خاص طور پر عوامی زندگی سے وابستہ افراد کے لیے نہایت اہم ہیں، جہاں جمہوری ادارے اعتماد، ضبط اور خدمت کے جذبے پر پروان چڑھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب نوجوان قارئین کو مادی کامیابی سے آگے مقصد کی تلاش کی ترغیب دے گی اور قیادت کو دوسروں کی بہتری اور اجتماعی فلاح میں کردار ادا کرنے کا ذریعہ سمجھنے پر آمادہ کرے گی۔اس تقریب میں ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، اکشے پاترا فاو¿نڈیشن کے بانی و چیئرمین اور اسکون بنگلورو کے صدر مدھو پنڈت داس، اکشے پاترا فاو¿نڈیشن کے نائب چیئرمین و شریک بانی اور اسکون بنگلورو کے سینئر نائب صدر چنچلاپتی داس کے علاوہ سینئر حکام، اسکالرز اور مدعو مہمانوں نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande