
کولکاتا، 7 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جاری ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بھارتی الیکشن کمیشن نے مہاجر مزدوروں اور ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو بڑی راحت دی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جن ووٹروں کے نام ’’فطری استثنی‘‘کے زمرے میں نشان زد کیے گئے ہیں، ان کے لیے سماعت کے وقت جسمانی طور پر موجود ہونا لازمی نہیں ہوگا۔
الیکشن کمیشن سے وابستہ ذرائع کے مطابق، ایسے مہاجر مزدور جو روزگار کی خاطر دیگر ریاستوں میں مقیم ہیں اور وہ طلبہ جو مغربی بنگال سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی جانب سے اہلِ خانہ سماعت مراکز پر حاضر ہو کر ضروری دستاویزات جمع کرا سکیں گے۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر کمیشن ووٹر سے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کرے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ مغربی بنگال سے باہر کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر ریاستوں میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے قواعد میں یہ عملی نرمی دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حقیقی ووٹروں کو بلاوجہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی دوران جب بوتھ لیول افسران (بی ایل او) ووٹروں کے گھروں پر نوٹس دینے جائیں گے تو وہ ووٹر یا ان کے اہلِ خانہ کو یہ بھی سمجھائیں گے کہ اس عمل کے دوران ان کا نام کن وجوہات کی بنا پر ’’فطری استثنی‘‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کے ملازمین سے بھی ایک اعلامیہ طلب کیا ہے، جس میں انہیں یہ تصدیق کرنی ہوگی کہ وہ دو مختلف مقامات کی ووٹر فہرستوں میں درج نہیں ہیں۔ کمیشن کا مقصد دوہرے ووٹر اندراج کے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
کمیشن ذرائع کے مطابق، ’’ان میپڈ‘‘ زمرے کے ووٹروں کی سماعت کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ریاست میں ایسے ووٹروں کی تعداد 30 لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ ’’فطری استثنی‘‘ کے زمرے میں نشان زد ووٹروں کی تعداد تقریباً 92 لاکھ ہے۔
ان ’’فطری استثنی‘‘ کے معاملات کی سماعت 13 جنوری سے شروع ہوگی۔ حتمی ووٹر فہرست 14 فروری کو شائع کی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کمیشن کو ایک ماہ سے بھی کم وقت میں ان تمام معاملات کی سماعت مکمل کرنی ہوگی۔
ڈرافٹ ووٹر فہرست کے اجرا کے بعد جلد ہی بھارتی الیکشن کمیشن کا مکمل بنچ کولکاتا آئے گا اور پوری صورتحال کا جائزہ لے گا۔ اس کے بعد ہی رواں سال ہونے والے اہم اسمبلی انتخابات کی پولنگ تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد