
اندور، 07 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی سے مرنے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔ دراصل، منگل تک علاقے میں مرنے والوں کی تعداد 18 تھی، لیکن انتظامیہ نے متاثرہ اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے لیے بنائی گئی فہرست میں بدھ کو دو نئے نام جوڑے ہیں۔ ان میں رام کلی جگدیش اور شرون نتیو کھپراو شامل ہیں۔ اس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔ حالانکہ، حکومت نے ہائی کورٹ میں جو اسٹیٹس رپورٹ پیش کی تھی، اس میں صرف چار اموات کا ذکر تھا، لیکن معاوضہ 18 مہلوکین کے خاندانوں کو دیا گیا ہے۔ انہیں 2-2 لاکھ روپے کی مالی مدد دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں افسران کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی سے بھلے ہی 06 لوگوں کی موت ہوئی ہے، لیکن جہاں بھی موت کی اطلاع مل رہی ہے، وہاں کراس چیک کر کے مالی مدد دی جا رہی ہے۔ بدھ کو آئی سی یو میں 16 مریضوں کے داخل ہونے کی جانکاری سامنے آئی ہے۔
اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مادھو ہاسانی نے بتایا کہ فی الحال کل 99 مریض اسپتال میں داخل ہیں، جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔
مہلوکین میں ارمیلا یادو (60)، نند لال پال (75)، اوما کوری (31)، منجولا (74)، تارا بائی کوری (60)، گومتی راوت (50)، سیما پرجاپت (50)، جیون لال (80)، آویان ساہو (پانچ ماہ)، ہرکنور بائی (70)، اروند لکھر، گیتا بائی، اشوک لال پنوار، سنتوش بگولیا، اوم پرکاش شرما، رام کلی، شرون کھپراؤ، ہیرا لال (60)، شنکر بھایا (70) اور سمترا بائی شامل ہیں۔
انتظامیہ نے مہلوکین کی فہرست میں جن دو ناموں کو جوڑا ہے، ان میں رام کلی (47) اہلیہ جگدیش کو گزشتہ 28 دسمبر کو اچانک الٹی دست کی شکایت ہوئی۔ اہل خانہ انہیں علاج کے لیے نجی اسپتال لے کر پہنچے، لیکن علاج کے دوران ہی ان کی موت ہو گئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ رام کلی کو اس سے پہلے کسی بھی طرح کی سنگین بیماری نہیں تھی۔
وہیں، شرون نتھو کھپراو کی 29 دسمبر کو علاج کے دوران اسپتال میں موت ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے شری کرشن نے بتایا کہ 25 دسمبر کو انہیں اچانک الٹی دست کی شکایت ہوئی تھی۔ حالت خراب ہونے پر انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اگلے دن 26 دسمبر کو کچھ سدھار ہوا، لیکن اس کے بعد اچانک طبیعت پھر خراب ہوگئی اور ان کی جان چلی گئی۔ شرون کھپراو کی آخری رسومات مہاراشٹر کے بلڈھانہ ضلع کے سیلاپور گاؤں میں ادا کی گئیں، جو ان کا آبائی گاؤں ہے۔ ان کا پوتا نگر نگم کی پانی کی ٹنکی پر ملازم ہے اور بیٹا سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا ہے، اسی وجہ سے پورا خاندان اندور میں رہ رہا تھا۔
اندور میں موت کے اعداد و شمار اور جنہیں معاوضہ دیا گیا ہے، ان کی تعداد میں فرق کو لے کر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ہمارے لیے ایک بھی شخص کی جان جانا تکلیف دہ ہے اس لیے ہم اس کے اعداد و شمار میں نہیں پڑ رہے ہیں۔
اندور کلکٹر شیوم ورما اور نگر نگم کمشنر کشتیج سنگھل نے بدھ کو بھی بھاگیرتھ پورہ علاقے کی بستیوں اور کالونی کا معائنہ کیا۔ اس دوران سیوریج اور نرمدا پائپ لائن کے لیکیج سدھار کے کاموں کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔ مقامی رہائشیوں سے بھی واٹر سپلائی کو لے کر جانکاری لی گئی۔
اسی درمیان نگر نگم کے ملازمین نے علاقے میں نرمدا پائپ لائن کے والوو کھولے ہیں۔ آج علاقے میں نرمدا جل سپلائی کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس پانی کا استعمال نہ کریں۔ علاقے میں ابھی ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی کی جا رہی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن