جرمنی میں فوسٹر کیئر میں رہ رہی ہندوستانی بچی اریحہ شاہ کی واپسی کےلئے سفارتی مداخلت کی مانگ
نئی دہلی، 7 جنوری (ہ س)۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے راجیہ سبھا ایم پی جان برٹاس نے بدھ کے روز وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو خط لکھ کر جرمنی میں فوسٹر کیئر میں رہنے والی ہندوستانی شہری اریہا شاہ کی واپسی کے لیے سفارتی مداخلت کی درخواست کی
جرمنی میں فوسٹر کیئر میں رہ رہی ہندوستانی بچی اریحہ شاہ کی واپسی کےلئے سفارتی مداخلت کی مانگ


نئی دہلی، 7 جنوری (ہ س)۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے راجیہ سبھا ایم پی جان برٹاس نے بدھ کے روز وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو خط لکھ کر جرمنی میں فوسٹر کیئر میں رہنے والی ہندوستانی شہری اریہا شاہ کی واپسی کے لیے سفارتی مداخلت کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر کے آئندہ دورہ بھارت کے دوران اس معاملے کو اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے۔

خط میں جان برٹاس نے کہا کہ اریحہ شاہ ساڑھے چار سال سے زائد عرصے سے جرمنی کی چائلڈ سروسز (جوجینڈمٹ) کی تحویل میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اریحہ کے والدین کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کو جرمن تفتیشی ایجنسیاں پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔ ہسپتال کی رپورٹوں اور عدالت کی طرف سے مقرر کردہ ماہر نفسیات کے بچے کی اس کے والدین کے پاس واپسی کی سفارش کرنے کے باوجود، اسے اس کے خاندان سے الگ کر دیا گیا ہے اور اسے فوسٹر کیئرمیں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اریحہ پاسپورٹ رکھنے والی ہندوستانی شہری ہے، اور اس کے والدین اورپورا خاندان ہندوستان میں رہتا ہے۔ لہٰذا، بین الاقوامی قانون اور بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت، اسے خاندان کی دیکھ بھال، ثقافتی شناخت، زبان اور مذہب سے متعلق حقوق دیئے جائیں۔ برٹاس نے الزام لگایا کہ اریحہ کو جرمنی میں ہندوستانی کمیونٹی کے ساتھ ضم ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی اس کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کا احترام کیا جارہا ہے۔

خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اریحہ کی فوسٹر کیئرکو اکثر تبدیل کیا جاتا رہا ہے، جس نے اس کے جذباتی استحکام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فی الحال، اس کا واحد جذباتی سہارا اس کے والدین سے ملنے کے محدود مواقع ہیں، جنہیں ان کے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ برٹاس نے وزیر خارجہ پر زور دیا کہ وہ 12 اور 13 جنوری کو جرمن چانسلر کے مجوزہ ہندوستان کے دورے کے دوران اس انسانی مسئلہ پر ٹھوس اور فوری سفارتی اقدام کریں، تاکہ اریہا کی اپنے وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف ایک ہندوستانی لڑکی کو انصاف فراہم کرے گا بلکہ بچوں کی بہبود، خاندانی اتحاد اور انسانی اقدار کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کو مضبوطی سے ظاہر کرے گا۔یہ بات قابل غور ہے کہ فوسٹر کیئرمیں بچے کو ان کے والدین سے الگ کرنا اور انہیں کسی دوسرے خاندان یا نگہداشت کے مرکز کے ساتھ سرکاری تحفظ میں رکھنا شامل ہے۔ بچے کی حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے یہ انتظام عام طور پر عارضی سمجھا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande