جے پی نڈا دو روزہ دورے پر کولکاتا میں، انتظامی اور سیاسی اجلاس میں ہوں گے شامل
کولکاتا، 7 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا بدھ کی رات کولکاتا پہنچ رہے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ دو اہم اجلاس میں شرکت کریں گے، جن میں ایک انتظامی اور دوسرا سیاسی اجلاس شامل ہے۔ یہ اطلاع پارٹی کی
جے پی نڈا دو روزہ دورے پر کولکاتا میں، انتظامی اور سیاسی اجلاس میں ہوں گے شامل


کولکاتا، 7 جنوری (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا بدھ کی رات کولکاتا پہنچ رہے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ دو اہم اجلاس میں شرکت کریں گے، جن میں ایک انتظامی اور دوسرا سیاسی اجلاس شامل ہے۔ یہ اطلاع پارٹی کی ریاستی کمیٹی سے وابستہ ایک رکن نے دی ہے۔

جے پی نڈا جمعرات کی صبح شہر میں منعقد صحت سے متعلق ایک سیمینار میں شرکت کریں گے اور اس سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے بعد وہ بی جے پی بنگال کی ایک اہم تنظیمی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ میٹنگ کے بعد وہ جمعرات کی شام ہی دہلی واپس روانہ ہو جائیں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سمک بھٹاچاریہ نے خصوصی طور پر جے پی نڈا کو اس تنظیمی میٹنگ میں شرکت اور پارٹی رہنماؤں کی رہنمائی کے لیے مدعو کیا تھا، جسے قومی صدر نے قبول کر لیا۔

یہ تنظیمی میٹنگ مکمل طور پر بند کمرے میں منعقد ہوگی۔ مانا جا رہا ہے کہ اس دوران جے پی نڈا ریاست میں اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی پر اپنے خیالات پیش کریں گے اور آئندہ کی سمت طے کریں گے۔

قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتا کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔ وہیں اسی جنوری کے آخر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی ریاست کا دو روزہ دورہ مجوزہ ہے، جہاں وہ دو اضلاع میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ ان دونوں دوروں کے درمیان جے پی نڈا کا کولکاتا آنا اور تنظیمی میٹنگ کی صدارت کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بی جے پی قیادت اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ریاستی قیادت کو انتخابی تیاری اور تشہیری مہم سے متعلق کئی اہم مشورے دیے تھے۔ ان میں سب سے اہم مشورہ ترنمول کانگریس کے اس پروپیگنڈے کا مسلسل جواب دینے سے متعلق تھا، جس میں متوا برادری کے ووٹروں کے درمیان خصوصی گہرے نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے سبب ان کے ووٹنگ حقوق ختم ہونے کا خوف پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

امت شاہ نے ریاستی قیادت کو متوا برادری کے ووٹروں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ پروگرام منعقد کرنے اور انہیں ان کے ووٹنگ حقوق محفوظ رہنے کا یقین دلانے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بائیں محاذ اور ریاستی کانگریس کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مبینہ خفیہ مفاہمت کے بارے میں پھیلائے جا رہے پروپیگنڈے کی بھی مسلسل تردید کرنے کو کہا تھا۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مرکزی رہنماؤں کے مسلسل دورے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ بی جے پی مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح جارحانہ اور منظم حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande