
نئی دہلی، 6 جنوری (ہ س): راؤز ایونیو سیشن کورٹ اب کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کے خلاف 1980 میں ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرنے کے مقدمے کی اگلی سماعت 7 فروری کو کرے گی۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے آج سونیا گاندھی کو اس درخواست پر جواب داخل کرنے کے لئے وقت دیا جس میں مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایف آئی آر کو خارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
منگل کو سماعت کے دوران سونیا گاندھی کے وکیل نے عرضی کا جواب دینے کے لیے وقت کی درخواست کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ دستاویزات بہت پرانے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 7 فروری کو مقرر کی۔ 9 دسمبر 2025 کو عدالت نے سونیا گاندھی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔
یہ عرضی وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی ہے۔ اس سے پہلے 11 ستمبر کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں 1980 میں ہی شامل کیا گیا تھا جب کہ وہ 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ہی دہلی کے نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جب کہ وہ اس وقت ہندوستانی شہری بھی نہیں تھیں۔ اس درمیان سونیا گاندھی کا نام 1982 میں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا اور بعد ازاں 1983 میں ان کا نام دوبارہ شامل کیا گیا۔1983 میں سونیا گاندھی ہندوستانی شہری بن گئیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی نے اپریل 1983 میں بھارتی شہریت کے لیے بھی درخواست دی تھی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب سونیا گاندھی 1983 میں بھارتی شہری بنی ہیں، اس لیے انہوں نے 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کرائی ہیں، جو قابلِ سزا جرم ہے۔ اس لیے عدالت سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے۔ مجسٹریٹ کورٹ نے اس معاملے میں سونیا گاندھی یا دہلی پولیس کو نوٹس جاری نہیں کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی