
اندور کے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی معاملے میں ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ، کہا- شہر کی شبیہ ملک بھر میں خراب ہوئی
اندور، 06 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی اموات اور بیماری کے معاملے میں ہائی کورٹ نے بے حد تلخ تبصرہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے منگل کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر میں ایسا ہو رہا ہے، بہت افسوسناک ہے۔ ملک ہی نہیں بیرون ملک تک میں شہر کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ ملک کا نام خراب ہو رہا ہے۔‘‘
دراصل، اندور کے بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی اموات کو لے کر ہائی کورٹ میں تین مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ عرضیوں میں مریضوں کے مفت علاج، مہلوکین کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ اور قصوروار افسران کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرنے جیسی مانگیں کی گئی ہیں۔ پچھلی سماعت میں ہائی کورٹ کی ہدایت پر حکومت نے اسٹیٹس رپورٹ پیش کی تھی۔ منگل کو ہائی کورٹ کی اندور بینچ میں سبھی عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت ہوئی۔ اس میں آلودہ پانی سے جڑا معاملہ اہم طور پر اٹھایا گیا۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ اس واقعے نے شہر کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اندور ملک کا سب سے صاف ستھرا شہر ہے، لیکن اب آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے یہ پورے ہندوستان میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ صرف اندور ہی نہیں، بلکہ پوری ریاست میں صاف پانی عوام کا بنیادی حق ہے۔ اس حق سے کسی بھی حال میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو قصوروار افسران پر ’’سول اور کریمنل لائبلٹی‘‘ طے کی جائے گی۔ عدالت نے اشارے دیے کہ اگر متاثرین کو معاوضہ کم ملا ہے تو اس پر بھی مناسب ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے آلودہ پانی سے متاثرہ مریضوں کو مفت علاج دستیاب کرانے کی ہدایت دی ہے اور پورے معاملے میں ہوئی اموات کو لے کر تفصیلی رپورٹ بھی مانگی ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف اندور نہیں پوری ریاست کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ چیف سکریٹری اس معاملے میں خود حکومت کا موقف عدالت کے سامنے رکھیں۔ معاملے کی اگلی سماعت 15 جنوری کو ہوگی۔ اس میں چیف سکریٹری کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے معاملے سے جڑی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ خبریں بتا رہی ہیں کہ پورے شہر میں آلودہ پانی تقسیم ہو رہا ہے۔ یہ تشویش کا موضوع ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اندور کے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی کا بحران برقرار ہے۔ منگل کو بھی الٹی-دست کے 38 نئے معاملے سامنے آئے ہیں، جبکہ علاقے میں آلودہ پانی سے اب تک 17 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ابھی اسپتالوں میں 110 مریض داخل ہیں۔ ان میں سے 15 کا آئی سی یو میں علاج چل رہا ہے۔
اس درمیان، منگل کو بھوپال سے اندور پہنچی ’’اسٹیٹ انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام‘‘ (ایس آئی ڈی ایس پی) ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر بھاگوت بھارگو نے کہا کہ بھاگیرتھ پورا جیسا صحت کا بحران مدھیہ پردیش میں پہلی بار سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتنے کم وقت میں اتنے محدود علاقے میں بڑی تعداد میں مریضوں کا سامنے آنا اور وبا (ایپیڈیمک) جیسی صورتحال بننا بے حد غیر معمولی اور تشویشناک ہے۔
ادھر، معاملے کو لے کر اندور میں کانگریس کا مظاہرہ جاری ہے۔ اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار اور ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری پارٹی کارکنان کے ساتھ بھاگیرتھ پورا پہنچے ہیں۔ وہ مہلوک جیون لال اور گیتا بائی کے اہل خانہ سے ملنے جا رہے تھے، تبھی پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران سنگھار اور پولیس کے درمیان بحث بھی ہوئی۔ اس کے بعد کانگریس لیڈر مہلوک اشوک لال پوار کے گھر پہنچے۔ یہاں جیتو پٹواری نے کہا کہ ملک و بیرون ملک میں صفائی کے نام پر پہچان بنانے والے اندور کی شبیہ اس معاملے سے خراب ہوئی ہے۔ پٹواری نے دعویٰ کیا کہ یہاں 15-17 نہیں بلکہ کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خود اندور کے انچارج وزیر ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ پٹواری نے وزیر کیلاش وجے ورگیہ اور میئر پشیہ متر بھارگو سے فوری استعفیٰ دینے کی مانگ کی۔ جیتو پٹواری نے یہ بھی پوچھا کہ اندور کے رکن پارلیمنٹ کیا کر رہے ہیں اور سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن سے گزارش کی کہ وہ اس مسئلے پر کچھ کہیں۔ سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست کا موضوع نہیں، بلکہ براہ راست عوام سے جڑا سنگین معاملہ ہے۔ پٹواری نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سچائی کا ساتھ دیں اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ جن کے گھر اموات ہوئی ہیں، انہیں حکومت دو لاکھ روپے معاوضہ دے رہی ہے۔ یہ بہت کم ہے۔ مہلوکین کے ہر خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ کانگریس نے شام کو کینڈل مارچ اور ہر وارڈ میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن