
کانگریس کے قد آور رہنما سریش کلماڈی کے انتقال سے پونے میں سیاسی دور کا ایک باب ختم
ممبئی،
6 جنوری(ہ س)۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر
سریش کلماڈی آج علی الصبح پونے کے دیناناتھ منگیشکر اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان
کی عمر 82 برس تھی اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے بیماری سے نبرد آزما تھے۔
سریش
کلماڈی کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پونے کے سیاسی، سماجی اور کھیلوں سے وابستہ
حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ آنجہانی کے اہل خانہ کے مطابق ان کا جسدِ خاکی
پونے میں ان کی رہائش گاہ ’’کلماڑی ہاؤس‘‘ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے،
جبکہ آج شام نوی پیٹھ کے ویکنٹھ شمشان گھاٹ پر ان کی آخری رسومات انجام دی جائیں گی۔
آنجہانی
اپنے خاندان میں اہلیہ، بیٹا، بہو، دو شادی شدہ بیٹیاں، داماد اور پوتے پوتیوں کو
سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ سریش کلماڈی کی پیدائش یکم مئی 1944 کو ہوئی تھی۔ سیاست میں
آنے سے قبل انہوں نے بھارتی فضائیہ میں پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
سیاسی
سفر کے دوران وہ 1982 سے 1996 تک راجیہ سبھا کے رکن رہے اور بعد میں 1996 اور 2004
کے لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیا۔ وہ طویل عرصے تک پونے سے رکن پارلیمان رہے اور
مرکزی حکومت میں ریلوے کے وزیرِ مملکت کا قلمدان بھی سنبھالا۔
کھیلوں
کے میدان میں بھی سریش کلماڈی نے نمایاں کردار ادا کیا۔ پونے فیسٹیول اور پونے میراتھن
جیسے عالمی سطح کے پروگراموں کے ذریعے انہوں نے پونے کو بین الاقوامی شناخت دلائی۔
وہ انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے اور ان کے دور میں بھارت میں کامن ویلتھ
گیمز کا انعقاد ہوا۔
تاہم
کامن ویلتھ گیمز سے جڑے مبینہ گھوٹالے کے الزام میں انہیں 2011 میں گرفتار کیا گیا،
جس کے بعد کانگریس پارٹی نے انہیں معطل کر دیا۔ اس کے بعد ان کا سیاسی اثر و رسوخ
ختم ہوتا چلا گیا۔ تقریباً پندرہ برس بعد اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی
جانب سے عدالت میں کلوزر رپورٹ داخل کی گئی، جس میں انہیں کلین چٹ دی گئی۔ اس فیصلے
پر پونے میں ان کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا، لیکن تب تک ان کا سیاسی سفر
اختتام کو پہنچ چکا تھا۔
طویل
علالت کے بعد ان کے انتقال سے پونے کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم دور
کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے