دہلی فسادات کے چار ملزمین نے کڑکڑڈوما کورٹ میں ضمانتی مچلکہ داخل کیا۔
نئی دہلی، 06 جنوری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کیس میں اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ ضمانت ملنے کے بعد چاروں ملزمین نے منگل کو کڑکڑڈوما کورٹ میں ضمانتی مچلکے داخل کئے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ضمانتوں
ضمانت


نئی دہلی، 06 جنوری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کیس میں اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

ضمانت ملنے کے بعد چاروں ملزمین نے منگل کو کڑکڑڈوما کورٹ میں ضمانتی مچلکے داخل کئے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ضمانتوں کی تصدیق کرے اور 7 جنوری کو رپورٹ پیش کرے۔

گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان اور محمد سلیم خان نے کڑکڑڈومہ کورٹ میں ضمانتی مچلکے جمع کرائے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے دو لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور دو لاکھ روپے کے مقامی ضمانت کے ساتھ ضمانتی مچلکے جمع کرائے ہیں۔ 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے انہیں دہلی فسادات کی سازش کیس میں ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس اروند کمار کی سربراہی والی بنچ نے ان پر ضمانت کی سخت شرائط عائد کیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ملزمان کسی بھی ریلی میں شریک نہیں ہوسکتے اور نہ ہی پوسٹر تقسیم کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پانچوں ملزمان ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بغیر دہلی سے باہر سفر نہیں کر سکتے۔ عدالت نے ملزمان کو اپنے پاسپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی ملزم کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے تو وہ اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کریں گے۔

سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو ہفتے میں دو بار (پیر اور جمعرات) کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ تفتیشی افسر کو اپنا رہائشی پتہ، فون نمبر اور ای میل ایڈریس فراہم کریں۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کے گواہوں سے رابطہ نہ کریں اور ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ عدالت نے ان ملزمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت اس کیس سے متعلق کوئی بھی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے کیس کے دو ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ چار دیگر ملزمان صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا ناروال کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande