
نئی دہلی، 06 جنوری (ہ س): بی جے پی لیڈروں اور دہلی کے وزراء نے پیر کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نعرے بازی کی سخت مذمت کی۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین نے جے این یو میں وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نعرے لگانے والوں کو ملک دشمن طاقتوں کے اشارے پر کام کرنے والے بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے کہا کہ شرجیل امام اور عمر خالد کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ٹکڑے-ٹکڑے ایکو سسٹم پریشان ہے۔ جے این یو واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں آئین کے خلاف ہیں اور ملک دشمن ذہنیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے میڈیا کو بتایا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد جے این یو میں اس طرح کا نعرہ بازی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، اگر اس ملک میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف بھی مظاہرے ہوتے ہیں تو کیا بچے گا؟ ان لوگوں کے پاس ملک، آئین اور قانون کی کوئی عزت نہیں ہے۔ یہ علیحدگی پسند ہیں، یہ صرف ملک کو توڑنے کی بات کرتے ہیں۔
دہلی کے وزیر ثقافت کپل مشرا نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ کے خلاف نعرے لگانے سے پتہ چلتا ہے کہ نکسلیوں، دہشت گردوں اور فسادیوں کی حمایت میں بیہودہ نعرے لگانے والے مایوس ہیں کیونکہ نکسلیوں کو ختم کیا جا رہا ہے، دہشت گردوں سے نمٹا جا رہا ہے اور فسادیوں کو عدالت نے شناخت کر لیا ہے۔
بی جے پی لیڈر ارویندر سنگھ لولی نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی طرح جے این یو میں کل کا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی ملک دشمن ہیں، ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ سپریم کورٹ کے انصاف سے انکار قابل مذمت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سیکورٹی ڈپارٹمنٹ نے سابرمتی ہاسٹل کے باہر مبینہ طور پر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعرے لگانے کے سلسلے میں دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ یہ واقعہ پیر کی رات (5 جنوری) کو پیش آیا اور اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی