وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد ایران کی وینزویلا سے اپنی سرمایہ کاری کے مطالبات کی پیروی کی تصدیق
تہران،05جنوری(ہ س)۔ایران اور وینزویلا کے اقتصادی تعلقات اور تہران کے واجب الادا مطالبات کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی و میڈیا بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ صورتحال امریکا کی جانب سے ایک خصوصی فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری ا
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد ایران کی وینزویلا سے اپنی سرمایہ کاری کے مطالبات کی پیروی کی تصدیق


تہران،05جنوری(ہ س)۔ایران اور وینزویلا کے اقتصادی تعلقات اور تہران کے واجب الادا مطالبات کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی و میڈیا بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ صورتحال امریکا کی جانب سے ایک خصوصی فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں امریکا منتقل کیے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ اس واقعے نے لاطینی امریکا کے اس اہم ملک میں بڑے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تغیرات کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کی حکومت سے ایران کے مطالبات کی وصولی وزارت خارجہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں عراقچی نے بتایا کہ کراکس میں ایرانی سفارت خانے کا عملہ تاحال موجود ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران وینزویلا میں توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ہاو¿سنگ اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا ایک پیچیدہ جال بچھایا ہے۔اقتصادی شراکت داری اور تضادات 2022 میں دونوں ممالک کے درمیان 20 سالہ جامع تعاون کی دستاویز پر دستخط ہوئے تھے۔ اگرچہ سرکاری کسٹمز اعداد و شمار ایران کی برآمدات کو صرف 16 کروڑ ڈالر ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم دیگر ذرائع کے مطابق یہ حجم 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اس فرق کی وجہ براہ راست بارٹر سسٹم (اشیائ کا تبادلہ) ہے، جس میں تیل، سونے اور پیٹرول کا لین دین روایتی بینکاری چینلز کے بغیر کیا گیا۔توانائی اور ٹرانسپورٹ تعاون کا بنیادی محور توانائی کا شعبہ ہے۔ ایران نے وینزویلا کی ریفائنریوں کی مرمت اور توسیع کے لیے کروڑوں یورو کے معاہدے کیے۔ بحری نقل و حمل میں ایرانی کمپنی صدرا نے وینزویلا کے لیے چار آئل ٹینکرز تیار کیے جن کی مالیت 12 سے 14 کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔علاوہ ازیں ایرانی کمپنیاں ایران خودرو اور سائپا وینزویلا میں گاڑیاں اسمبل کر رہی ہیں۔وینزویلا نے ایران کو دس لاکھ ہیکٹر اراضی کاشتکاری کے لیے دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ایرانی ٹریکٹر پلانٹ وہاں سالوں سے فعال ہے۔ہاوسنگ کے شعبے میں ایران نے ہزاروں مکانات تعمیر کیے، تاہم وینزویلا کے معاشی بحران کی وجہ سے ایرانی کمپنیوں کے کروڑوں ڈالر کے مطالبات اب بھی زیر التوا ہیں۔سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ مادورو کی گرفتاری کے بعد تہران میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ شام میں بشار الاسد کے بعد ہونے والے نقصانات کی طرح یہاں بھی اس کی سرمایہ کاری خطرے میں ہے۔ شام میں ایران کی تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سیاسی تبدیلی کی نذر ہو چکی ہے۔ وینزویلا لاطینی امریکا میں ایران کا سب سے مضبوط سکیورٹی اور اقتصادی گڑھ رہا ہے، لہذا وہاں اقتدار کی تبدیلی ایران کے لیے محض مالی نقصان نہیں بلکہ ایک بڑا جیو پولیٹیکل دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande