
وینیزویلا کا مستقبل وہاں کے عوام طے کریں، بیرونی مداخلت قبول نہیں : روس
ماسکو، 07 جنوری (ہ س)۔ روس نے وینیزویلا کے حالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنوبی امریکی ملک کا مستقبل طے کرنے کا حق صرف وینیزویلا کے عوام کو ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ روسی وزارت خارجہ نے منگل کو جاری بیان میں ڈیلسی روڈریگز کو وینیزویلا کی قائم مقام صدر مقرر کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ وینیزویلا کے افسران کی طرف سے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ بیان میں زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ وینیزویلا کے داخلی سیاسی معاملات میں بیرونی طاقتوں کو دخل دینے سے بچنا چاہیے اور وہاں کے لوگ خود اپنے مستقبل کا تعین کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وینیزویلا میں بڑا سیاسی الٹ پھیر دیکھنے کو ملا ہے۔ معزول صدر نکولس مادورو کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک غیر معمولی کارروائی کے تحت گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد مادورو کو نیویارک لے جایا گیا، جہاں انہوں نے پیر کو منشیات سے جڑے الزامات میں خود کو بے قصور بتایا۔ اس سلسلہ واقعہ کے بعد کراکس میں وینزویلا کی سیاسی قیادت کے اندر انتشار پیدا ہوگیا ہے اور ایک نیا نظام قائم کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ روس نے اس پورے واقعے کو وینیزویلا کی خودمختاری سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی برادری کو وہاں کی جائز حکومت اور اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ ماسکو کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاسی سمت طے کرنے کا حق اس کے عوام اور جائز اداروں کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق، وینیزویلا میں استحکام اور امن بحال کرنے کے لیے بات چیت اور آئینی عمل کی پیروی ضروری ہے۔ روس نے ایک بار پھر دہرایا کہ وہ وینیزویلا کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کو جاری رکھے گا نیز ملک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے حق میں کھڑا رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن