
پیرس،07جنوری(ہ س)۔
امریکہ اسرائیل اور شام کی حکومتوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں تصدیق کی گئی کہ اعلیٰ سطحی اسرائیلی اور شامی حکام نے امریکی سرپرستی میں پیرس میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں امن کے ویڑن کے تحت منعقد ہوئی۔بیان کے مطابق مذاکرات میں شام کی خودمختاری اور استحکام کے احترام اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور دونوں ممالک کی خوشحالی کے فروغ پر توجہ مرکوز رہی۔
مشترکہ بیان میں بتایا گیا کہ فریقین نے مستقل سکیورٹی اور استحکام پر مبنی انتظامات کی جانب بڑھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ امریکہ کی نگرانی میں ایک مشترکہ رابطہ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ،فوجی کشیدگی میں کمی اور سفارتی روابط کو آسان بنایا جا سکے۔واشنگٹن نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے وسیع تر کوششوں کے تحت ان مفاہمتوں پر عمل درآمد کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سیاسی مکالمہ کئی ماہ کی تعطل کے بعد امریکی سرپرستی اور تعاون سے بحال کر دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ مکالمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں امن کے ویڑن کے تناظر میں ہوا جہاں اسرائیل نے اپنے شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے اور سرحدوں پر کسی بھی ممکنہ خطرے کی روک تھام کی اہمیت پر زور دیا۔اسرائیل نے علاقائی استحکام اور سکیورٹی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے مفاد میں اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالمہ جاری رکھنے اورشام میں دروز اقلیت کی سکیورٹی کی حمایت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب ایک شامی عہدیدار نے کہا کہ امریکی اقدام میں اسرائیل کی تمام عسکری سرگرمیوں کے خاتمے کی ضمانت شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کا ایک تاریخی موقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک معاملات پر پیش رفت کے لیے ایک واضح ٹائم لائن کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ اسرائیلی انخلا کے لیے بھی مخصوص شیڈول طے ہونا چاہیے۔اس سے قبل اکسیس ویب سائٹ نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل اور شام نے امریکی ثالثی اور دباو ¿ کے تحت ایک نئے سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات مذاکرات سے آگاہ اسرائیلی اور امریکی حکام نے بتائی۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق پیرس میں کئی گھنٹوں جاری رہنے والی بات چیت کے دوران فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ مذاکرات کی رفتار بڑھائی جائے زیادہ بار ملاقاتیں ہوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق وڑن کے تحت ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ملاقات میں شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام باراک نے شرکت کی جبکہ صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے جنہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ یہ امریکی سرپرستی میں مذاکرات کا پانچواں دور تھا تاہم دو ماہ بعد ہونے والا پہلا اجلاس تھا کیونکہ اس سے قبل جمود اور گہرے اختلافات دیکھنے میں آئے تھے۔باخبر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ یہ اقدام مشترکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر سیاسی عمل کا راستہ ہموار کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ تھا۔
اسرائیلی وفد میں واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر یحیئل لیٹر وزیراعظم کے عسکری سیکریٹری رومان غوفمان اور قائم مقام قومی سلامتی کے مشیر گیل رائیش شامل تھے جبکہ شامی وفد میں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسین سلامہ شریک ہوئے۔عہدیداروں کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جنوبی شام کو غیر مسلح کرنے کے بدلے ان علاقوں سے اسرائیلی انخلا شامل ہو سکتا ہے جن پر اس نے ماضی کے مختلف مراحل میں قبضہ کیا تھا۔ ان تفصیلات کو آئندہ مذاکراتی ادوار میں حتمی شکل دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan