ہاوس ریپبلکن ریٹریٹ میں ٹرمپ کا خطاب، وینیزویلا کارروائی کو بتایا شاندار، اپوزیشن پر بھی نشانہ سادھا
ہاوس ریپبلکن ریٹریٹ میں ٹرمپ کا خطاب، وینیزویلا کارروائی کو بتایا شاندار، اپوزیشن پر بھی نشانہ سادھا واشنگٹن، 07 جنوری (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہاوس ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ کے سالانہ ’’ریٹریٹ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کامیابیوں کی
ہاوس ریپبلکن ریٹریٹ میں ٹرمپ کا خطاب


ہاوس ریپبلکن ریٹریٹ میں ٹرمپ کا خطاب، وینیزویلا کارروائی کو بتایا شاندار، اپوزیشن پر بھی نشانہ سادھا

واشنگٹن، 07 جنوری (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہاوس ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ کے سالانہ ’’ریٹریٹ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کامیابیوں کی جم کر تعریف کی اور وینیزویلا کی دارالحکومت کراکس میں حالیہ فوجی کارروائی کو ’’حیرت انگیز‘‘ اور ’’اسٹریٹجک طور پر شاندار‘‘ بتایا۔ اپنی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے لمبی تقریر میں ٹرمپ نے خارجہ پالیسی، گھریلو سیاست، آئندہ وسط مدتی انتخابات اور صحت خدمات جیسے مسائل پر کھل کر بات کی۔

اپنے خطاب کی شروعات میں ٹرمپ نے کہا، ’’آپ صدارتی انتخاب جیتتے ہیں اور ہم یقینی طور پر ایک بے حد کامیاب صدارتی مدت کار چلا رہے ہیں۔ جو ہم کر رہے ہیں، ویسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے حال کے دنوں کی ’’بے حد کامیاب‘‘ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وینیزویلا میں ہوئی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، جس میں سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کی گرفتاری ہوئی۔

ٹرمپ نے کراکس میں ہوئے حملوں کو لے کر کہا، ’’یہ حیرت انگیز تھا، شاندار تھا۔ سوچیے، ہماری طرف سے کوئی نہیں مرا، جبکہ دوسری طرف کئی لوگ مارے گئے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن ’’اسٹریٹجک طور پر بے حد بہترین‘‘ تھا۔ ٹرمپ نے مادورو کو ’’پر تشدد شخص‘‘ بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے لاکھوں لوگوں کی جان لی ہے۔

اس دوران صدر نے کیلیفورنیا کے رکن پارلیمنٹ ڈگ لا-مالفا کے انتقال پر افسوس بھی ظاہر کیا اور انہیں ’’امریکی بچوں اور سماج کے سچے محافظ‘‘ کے طور پر یاد کیا۔

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی انتخابی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے 2020 کے انتخابات کو ’’دھاندلی والا‘‘ بتایا، حالانکہ یہ دعوے پہلے بھی خارج کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ اگر وہ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ سے آئندہ وسط مدتی انتخابات جیتنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ہم مڈٹرم نہیں جیتتے، تو وہ کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ کر مجھ پر مواخذہ لگانے کی کوشش کریں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے صحت خدمات کی پالیسی پر پارٹی کو جارحانہ رخ اپنانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ صحت کے خرچ کے لیے پیسہ براہ راست لوگوں تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ بیمہ کمپنیوں کے پاس۔

آخر میں ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وہ جلد ہی امریکی تیل کی صنعت کے افسران سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تیل کی پیداوار سے قیمتیں اور نیچے آئیں گی اور امریکہ کو توانائی کے شعبے میں مزید مضبوط کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande