
ریاض،05جنوری(ہ س)۔سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کو وسعت دینے کے لیے اقدامت کیے ہیں جیسا کہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینی شہریوں کے لیے تیز رفتار اور وسیع تر امدادی رسائی یقینی بنانے کی غرض سے فضائی، سمندری اور زمینی راستے تیز تر کرنے کا حکم دیا ہے۔غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی چیلنجز کے درمیان سامنے آنے والا یہ اقدام شہری آبادی پر بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے مملکت کی موجودہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
شاہی عدالت کے مشیر اور کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کہا، اس اقدام سے امدادی کارروائیوں میں سعودی عرب کی مسلسل مصروفیت اور ہنگامی حالات کے دوران انسانی ذمہ داریوں کے لیے اس کا عزم نمایاں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے سعودی امداد کے ایس ریلیف کے زیرِ انتظام ایک مربوط نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی ہے جس میں طبی اور ضروری وسائل کی فراہمی کے ساتھ غذائی رسد، عارضی رہائش، صحت، صاف پانی اور صفائی جیسی اہم ضروریات پورا کرنے کے متعدد پروگرام شامل ہیں۔الربیعہ کے مطابق سعودی امدادی کوششوں میں غزہ کے اندر انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ امدادی قافلے، غذائی اور طبی رسد، پناہ گاہوں کا سامان اور ہوائی جہازوں سے امداد کی ترسیل شامل ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی شراکت داروں اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کیے جا رہے ہیں۔مملکت کی توجہ موجودہ بحران کے دوران فلسطینیوں کی حمایت پر مرکوز ہے، انہوں نے مزید کہا اور زور دیا کہ تنازعات سے مت?ثرہ افراد کی مدد کے لیے سعودی عرب کے دیرینہ عمل کے طور پر انسانی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan