
تہران، 5 جنوری (ہ س)۔ ایران میں آٹھ روز سے جاری مظاہروں کے دوران کم از کم 19 شہری اور ایک سیکورٹی اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک کے 222 مقامات پر رات بھر مظاہرے ہوئے۔ 26 صوبوں کے 78 شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مہنگائی کے خلاف شروع کی گئی تحریک نے ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بدامنی کے شعلے مقدس شہر قم تک پہنچ گئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر خامنہ ای کے ملک چھوڑ کر کسی بھی وقت روس جانے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔
ایران انٹرنیشنل نے امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر این اے) اور ٹائمز کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق اگر بدامنی بڑھی تو سپریم لیڈر علی خامنہ ای ملک چھوڑ کر فرار ہو سکتے ہیں۔ اگر سیکورٹی فورسز احتجاج کو دبانے میں ناکام رہیں تو وہ اپنے 20 کے قریب ساتھیوں اور خاندان کے ساتھ ماسکو فرار ہو جائیں گے۔
احتجاج کے آٹھویں روز اتوار کو وسطی تہران میں مظاہرین اورسیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دارالحکومت کے کئی حصوں میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔ رات بھر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔ یونیورسٹیاں، بازار اور صوبائی شہر بدامنی کے مراکز بنے رہے۔ ہفتے کی رات مغربی شہر ملک شاہی میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم پانچ مظاہرین ہلاک اور 30 کے قریب زخمی ہو گئے۔
رپورٹ میں انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنے بیٹے اور نامزد جانشین مجتبیٰ سمیت اپنے 20 قریبی ساتھیوں اور خاندان کے ساتھ ایران سے ماسکو فرار ہونے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد