
واشنگٹن،04جنوری(ہ س)۔نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو ’جنگی جارحیت کا عمل‘ قرار دیا۔ڈیموکریٹک پارٹی کے سوشلسٹ دھڑے سے تعلق رکھنے والے ممدانی نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی، جو مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورِس کے خلاف کیا گیا، جنہیں 2020 سے منشیات سے جڑے دہشت گردی کے الزامات کے تحت مطلوب قرار دیا گیا تھا۔
بروکلین میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ممدانی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اس کارروائی پر اپنے سخت اعتراض سے آگاہ کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو ذاتی طور پر فون کیا۔ میئر نے وضاحت کی کہ ان کی مخالفت کی بنیاد طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی کی مخالفت اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے اصولوں پر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تصادم ان کے لیے وائٹ ہاو¿س کے ساتھ پہلا براہِ راست اختلاف ہے، جو انہوں نے گزشتہ بدھ کو میئر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کیا۔ممدانی کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے اثرات نیویارک کے شہریوں پر بھی پڑتے ہیں، خصوصاً شہر میں آباد وینزویلا کی بڑی کمیونٹی پر۔
اسی سلسلے میں امریکی کانگریس کی رکن الیگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اس فوجی کارروائی کے پیچھے ظاہر کیے گئے مقاصد پر شک کا اظہار کیا اور ''ایکس ''پلیٹ فارم پر کہا کہ اصل مقصد منشیات کی روک تھام نہیں بلکہ وینزویلا کے تیل پر قبضہ اور حکومت کی تبدیلی ہے۔کورٹیز نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ اس مقدمے کے ذریعے عوام کی توجہ داخلی حساس مسائل، جیسے صحت کی دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ایپ سٹین کے کیس سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔اسی دوران نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ٹرمپ کی جانب سے اس کارروائی کی منظوری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے اختیارات کا کھلا ناجائز استعمال قرار دیا، کیونکہ یہ کارروائی کانگریس کی منظوری کے بغیر کی گئی تھی۔کانگریس میں ڈیموکریٹک قیادت جس کی نمائندگی حکیم جیفریز اور چک شومر کر رہے ہیں، نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ٹرمپ کے وینزویلا کو عارضی طور پر چلانے کے ارادے کو غیر قابل قبول قرار دیا اور کانگریس کے سینئر حکام سے فوری انٹیلی جنس بریفنگ کا مطالبہ کیا تاکہ اس فوجی کشیدگی کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan