
تل ابیب،06جنوری(ہ س)۔
اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں اپنے عزائم میں سے ایک کا اظہار پیر کے روز بہت کھلے انداز میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کو اس کا بیلیسٹک میزائل پروگرام بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ کھلا انتباہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی فلوریڈا میں ہونے والی تازہ ملاقات کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ ایسی ہی دھمکی امریکی صدر نے بھی حالیہ دنوں میں دی تھی۔اب پیر کے روز نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم ایران کو بیلیسٹک میزائل پروگرام کی صنعت بحال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلاشبہ ہم اسے کافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات قانون سازوں سے کہی ہے۔نیتن یاہو نے واشگاف الفاظ میں کہا اگر ایران میں کسی طرف سے ہم پر حملہ کیا گیا تو ایران کو بہت سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔اسرائیلی حکام اور میڈیا نے حالیہ مہینوں کے دوران ایرانی بیلیسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیل نے ماہ جون میں بارہ روزہ جنگ کے دوران ایرانی جوہری پروگرام اور بیلیسٹک میزائل پروگرام کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ جبکہ اسرائیل نے اس جنگ میں امریکہ کو بھی ملوث کر لیا تھا تاکہ ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل تباہ کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا تھا ایران غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ اپنے بیلیسٹک میزائلوں کے ذخیرے بحال کرنے کے لیے نئے جوہری پوائنٹس کی تلاش کر رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے اس کے میزائلوں کو تباہ کیا تھا۔ٹرمپ نے مزید کہا مجھے امید ہے کہ وہ اب دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور اگر اس نے ایسا کیا تو ہمارے پاس از سر نو اس کی تنصیبات کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہوگا۔ تاہم پچھلی بار کے مقابلے میں اب کی بار ہمارا ردعمل زیادہ طاقت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔نیتن یاہو نے اسی دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہرے پھیل رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ہم فیصلہ کن مرحلے پر ان کے ساتھ ہوں۔ ایک ایسے موقع پر جب ایرانی عوام اپنا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کے مرحلے میں ہو۔خیال رہے ایران میں احتجاج کی نئی لہر 28 دسمبر سے شروع ہے۔ یہ احتجاج ایرانی تاجروں اور دکانداروں کی طرف سے شروع کیا گیا ہے جو ایرانی کرنسی کی قدر کے بہت گر جانے اور افراط زر کے غیر معمولی طور پر بڑھ جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کہ ان کے لیے مہنگائی کے اس ماحول میں کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ایران پچھلی کئی دہائیوں سے امریکہ و یورپ کی بدترین اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے سخت برے معاشی حالات سے گزر رہا ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی ریال کی قیمت بھی تاریخ کی بدترین سطح تک نیچے گر گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں ایران کو اب عوامی سطح سے مظاہروں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اتوار کے روز کہا تھا اسرائیل ایرانی تاجروں اور دکانداروں کے ساتھ کھڑا ہے جو اس وقت سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہم ایرانی عوام کے جذبہ آزادی اور جدودجہد کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ آزادی و انصاف کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan