
کوپن ہیگن/ برسلز، 6 جنوری (ہ س) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کے بارے میں حالیہ تبصروں نے یورپ میں سفارتی تناؤ کو جنم دیا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور ڈنمارک کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ گرین لینڈ اس کے لوگوں کا ہے اور اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی کر سکتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر آرکٹک خطے کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔ رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو نے آرکٹک کو پہلے ہی ترجیحی خطہ کے طور پر نامزد کیا ہے اور یورپی اتحادی کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے وہاں اپنی موجودگی، سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل 2019 میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ کا استدلال ہے کہ گرین لینڈ امریکی فوجی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے اور ڈنمارک اس کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا ہے۔ وینزویلا میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے کہ گرین لینڈ کو بھی اسی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم گرین لینڈ کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کو پورے یورپ کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نیٹو کے کسی رکن کو کسی دوسرے رکن کو دھمکی دینے یا حملہ کرنے پر غور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اس اتحاد کا وجود ہی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف نے بھی مشترکہ بیان کی حمایت کا اظہار کیا۔
امریکی تنقید کے جواب میں، ڈنمارک نے 2025 تک آرکٹک کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے 42 بلین ڈینش کرونر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود واشنگٹن کی طرف سے آنے والے کچھ بیانات نے یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا طاقت اور قوت سے چلتی ہے۔ ان کے اس بیان کو یورپ میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتی ہے لیکن شہریوں کو فوری طور پر امریکی قبضے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
گرین لینڈ، جس کی آبادی صرف 57,000 ہے، نیٹو کا آزاد رکن نہیں ہے، لیکن ڈنمارک کی رکنیت کے ذریعے نیٹو کے سیکیورٹی فریم ورک میں شامل ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان اس کا تزویراتی محل وقوع، اس کا میزائل ڈیفنس سسٹم، اور معدنی وسائل کی فراوانی اسے عالمی سیاست میں انتہائی اہم بناتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی