حاضر چاندی نے زبردست چھلانگ لگائی، چنئی میں قیمت ساڑھے تین لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی
نئی دہلی، 21 جنوری (ہ س)۔گھریلو صرافہ بازار میں اسپاٹ سلور (حاضر چاندی)میں آج زبردست تیزی دکھائی ہے۔ آج کی تیزی کی وجہ سے یہ چمکدار دھات حیدرآباد اور چنئی میں ساڑے تین لاکھ روپے فی کلو گرام کی سطح پر آ گئی ہے۔ اس چھلانگ کے ساتھ ہی اس چمکدار دھات نے
Bullion-Market-Silver-Price


نئی دہلی، 21 جنوری (ہ س)۔گھریلو صرافہ بازار میں اسپاٹ سلور (حاضر چاندی)میں آج زبردست تیزی دکھائی ہے۔ آج کی تیزی کی وجہ سے یہ چمکدار دھات حیدرآباد اور چنئی میں ساڑے تین لاکھ روپے فی کلو گرام کی سطح پر آ گئی ہے۔ اس چھلانگ کے ساتھ ہی اس چمکدار دھات نے آج ایک بار پھر مضبوطی کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ ملک کے الگ الگ حصوں میں چاندی آج 15,000 روپے فی کلو گرام سے لے کر 22000 روپے فی کلو گرام تک مہنگی ہو گئی ہے۔ قیمت میں اس اضافے کی وجہ سے چاندی ملک کے الگ الگ صرافہ بازاروں میں آج چاندی 3,19,900 روپے فی کلو گرام سے لے کر 3,40,100 روپے فی کلو گرام کی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔

دہلی کے صرافہ بازار میں آج چاندی کی قیمتوں میں 15,000 روپے فی کلو گرام کا اضافہ ہوا، جس سے یہ چمکدار دھات آج 3,20,100 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کاروبار کر رہی ہے ۔ اسی طرح ممبئی، احمد آباد اور کولکاتا میں چاندی 3,19,900 روپے کی قیمت پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ جبکہ جے پور، سورت اور پونے میں چاندی کی قیمت 3,20,200 روپے فی کلوگرام پر برقرار ہے۔

وہیں، بنگلورو میں چاندی 3,20,400 روپے فی کلوگرام کی سطح پر اور پٹنہ اور بھونیشور میں 3,20,000 روپے فی کلوگرام کی سطح پر تجارت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ، حیدرآباد میں چاندی 21,900 روپے فی کلوگرام کے اضافہ کے ساتھ 3,39,700 روپے فی کلوگرام کی سطح پر تجارت کر رہی ہے۔ ملک میں چاندی کی سب سے زیادہ قیمت ابھی بھی چنئی میں ہے، جہاں چمکدار دھات 22,000 روپے فی کلو گرام اضافے کے ساتھ 3,40,100 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چاندی کی فی اونس قیمت 94.50 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس چمکدار دھات کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر اور مقامی صرافہ بازار میں پازیٹیو نوٹس قائم ہے۔ عالمی سطح پر ہلچل کی وجہ سے، بڑے سرمایہ کاروں نے سیف انوسٹمنٹ انسٹرومنٹ کے طور پر سونے اور چاندی میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔ چاندی کی صنعتی مانگ میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے نتیجے میں، چاندی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

مارکیٹ ایکسپرٹ مینک موہن کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں پر سب سے زیادہ اثر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک کو دی گئی دھمکی کی وجہ سے پڑا ہے۔ ٹرمپ نے ان یورپی ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ یکم فروری 2026 سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور فن لینڈ سے امریکہ آنے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے سیف اسیٹ سمجھے جانے والے سونے اور چاندی میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔ اس کی وجہ سے ان دونوں چمکدار دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande